مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 431 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 431

فتنہ کی اصل حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 1973ء میں بھٹو صاحب نے پاکستان میں بڑے ٹھاٹھ سے اسلامی ممالک کی ایک کانفرنس منعقد کی۔بھٹو صاحب کی شدید خواہش تھی اور ان میں اس کی صلاحیت بھی تھی کہ بین الاقوامی سطح پر ان کا تشخص ایک قد آور لیڈر کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ظاہر ہے اس مقصد کے لئے پاکستان کی سٹیج تو بے حد محدود اور ناکافی تھی اس لئے کچھ عرصہ تک تو وہ تیسری دنیا کا لیڈر بننے کی کوشش میں لگے رہے جس میں برطانیہ اور فرانس کی نو آبادیات اور دیگر ممالک شامل تھے لیکن سوئے اتفاق سے یہ گدی پہلے ہی پنڈت نہرو اور اس کی بیٹی مسز اندرا گاندھی کے قبضے میں آچکی تھی۔چنانچہ مایوس ہو کر وہ دُنیائے اسلام کا لیڈر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔اس سلسلے میں انہیں سعودی عرب کی پوری حمایت حاصل تھی، اس کے صلے میں کامیابی کی صورت میں جہاں بھٹو صاحب عالم اسلام کے سرکردہ سیاسی لیڈر کی حیثیت سے اُبھر کر سامنے آجاتے وہاں سعودی عرب کے فرمانروا کو بھی مسلمانوں کے روحانی سربراہ اور خلیفہ کے طور پر تسلیم کرا لیا جاتا۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 154,155) ظاہر ہے کہ اس منصوبہ کی راہ میں ایک ہی روک تھی جو ایک ناقابل عبور اور بلند و بالا پہاڑ کی طرح حائل تھی اور وہ تھی جماعت احمدیہ کی خلافت اور اس عظیم منصب اور ادارے کا پورے تمکن۔تحریک اور استحکام کے ساتھ اس کا فعال قیام اور اس کی موجودگی۔یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ بیک وقت مسلمانوں کے دو خلفا ہوں اس لئے انہیں اس کا ایک ہی حل نظر آیا اور وہ یہ تھا کہ خلافت احمدیہ کو سرے سے راستے سے ہٹا دیا جائے یا بالفاظ دیگر احمدیوں کے اسلامی تشخص کو ختم کر کے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔“ ایک مرد خدا۔چودھری محمد علی صاحب صفحہ 156) اس کے لئے پہلے سے سازش تیار کر لی گئی تھی۔حضرت مرزا طاہر احمد (خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بعض حکومتی نمائندگان سے ذکر کیا تو وہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے لیکن ہوا وہی جسے آپ کی دور بین نگاہوں نے پہلے ہی تاڑ لیا تھا۔بھٹو صاحب کی یہ سازش تو ناکام ہو گئی پھر وہ جماعت کی کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے جس کے نتیجے میں وہ بدنام زمانہ قرار داد پیش کی گئی جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جا سکے۔1974ء میں مجوزہ آئینی ترمیم پیش کی گئی۔یہ ساری کاروائی عوام سے مخفی رکھی گئی اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔وہ دن اور آج کا دن احمدیوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ مکہ مکرمہ جا کر فریضہ حج ادا کر سکیں، بری اور ہوائی افواج سے سینئر احمدی افسروں کو ریٹائر کر دیا گیا، نوجوان احمدی افسروں کی ترقیاں روک دی گئیں، سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں کام کرنے والے احمدی افسروں اور ماتحتوں سے یہی سلوک روا رکھا گیا، احمدی سفارتکاروں اور سفیروں پر ترقی کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے، اس کے بعد یونیورسٹیوں میں کام کرنے والے احمدی لیکچراروں پر پروفیسر بننے کے امکانات ختم ہو گئے ، اسی طرح ہسپتالوں میں کام کرنے والے احمدی ڈاکٹر بھی اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی صدارت کے فرائض سر انجام دینے کے نا اہل قرار دے دیئے گئے، اور تو اور ٹیلیفون (Telephone) اور کمپیوٹر انجینئرنگ (Computer Engineering) وغیرہ قسم کے محکموں میں بھی احمدی نوجوانوں کے ساتھ اسی قسم کا امتیازی سلوک روا رکھا جانے لگا، نئے فارغ التحصیل احمدی نوجوان طلبا اعلی تیکنیکی (technical) اور سائنسی امتحانات نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کرنے کے بعد جب سرکاری ملازمت حاصل 431