مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 399
(ب) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تقاریر و خطبات: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی بشارت وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“ کے مطابق اپنے باون سالہ دور خلافت میں بے شمار علمی جواہر پارے اپنی یادگار چھوڑے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بے شمار تقاریر و خطبات باون سال سے زائد کی اخباروں اور رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں ان سب کو اکٹھا کر کے محفوظ رکھنے کا کام اس فاؤنڈیشن کے بنیادی کاموں میں سے ہے۔اس سلسلہ میں خطبات محمود کے نام سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خطبات اور تقاریر کی تدوین واشاعت کا کام فاؤنڈیشن کر رہی ہے۔اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تصانیف انوار العلوم کے نام سے سیٹ کی شکل میں شائع کی جا رہی ہیں۔حیات ناصر جلد 1 صفحہ 519) نوٹ: اللہ کے فضل و کرم سے اس فاؤنڈیشن کے تحت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تقاریر و تصانیف آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز سے 1944 ء تک کی تقاریر کتب پر مشتمل: (i) انوار العلوم کی سترہ (17) جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے، (ii) اس طرح خطبات محمود پر مشتمل خطبات جمعہ و عیدین و خطبات نکاح جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے آغاز سے 1934ء تک کے دور کا احاطہ کرتے ہیں، کی پندرہ جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور ابھی یہ سلسلہ بھی جاری ہے۔(iii) مزید حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ تفسیر کبیر کی 10 جلدوں میں اشاعت اور مختصر تفسیری نوٹس پر مبنی اور (iv) تفسیر صغیر کی اشاعت بھی اسی فاؤنڈیشن کا کارنامہ ہے۔(ج) خلافت لائبریری حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جماعت کے پاس لائبریری کی کتب تو تھیں لیکن ایک وسیع بلڈنگ کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ایک جدید لائبریری کی وسیع عمارت اس فاؤنڈیشن کے ذریعے تعمیر کی گئی جس پر پہلے سوا چار لاکھ روپے خرچ آیا پھر اس کی مزید توسیع کی گئی جس پر مزید آٹھ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔فاؤنڈیشن (Foundation) نے لائبریری آرمیٹلٹس (Laibrary Architects) سے باقاعدہ ڈیزائن کروا کر ایک شاندار عمارت کی شکل میں تعمیر کروائی اور اسے جدید فرنیچر اور جدید آلات سے مزین کیا گیا۔اس عمارت کا سنگ بنیاد حضرت خليفة أسبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک سے 18 جنوری 1970 ء کو رکھا گیا اور اس کا افتتاح بھی حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ہی فرمایا جو 3 اکتوبر 1971ء کو عمل میں آیا۔فاؤنڈیشن نے یہ لائبریری معہ فرنیچر مدر انجمن احمدیہ کے رد کر دی۔اس لائبریری کا پہلا نام محمود لائبریری" رکھا گیا جسے بدل کر ” خلافت لائبریری“ کر دیا گیا۔ابتدا میں اس لائبریری کی گنجائش پچاس ہزار کتب تھی لیکن اب اس میں ایک لاکھ تمیں ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لائبریری کی اہمیت کے بارہ میں فرمایا تھا۔سپرد " صدر یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں۔تبلیغ اسلام، مخالفوں کے اعتراضات کے جوابات، تربیت یہ سب کام لائبریری سے ہی متعلق رکھتے ہیں۔۔۔۔لائبریری کے متعلق میرے نزدیک سلسلہ سے 399