مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 397
اس تحریک کے جاری کرنے کے چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ کو بذریعہ اطلاع دی: تینوں اینا دیواں گا کہ تو رج جاویں گا حضور (حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کے علاوہ جماعت کے بعض دوستوں کو بھی بشارتیں ملیں۔حضور (حضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کر تے ہوئے ایک اور موقع پرفرمایا: ایک دوست کو خواب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نظر آئے۔۔۔۔آپ (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) نے اس دوست کو کہا کہ اس کو یعنی مجھے یہ پیغام پہنچا دو کہ فضل عمر فاؤنڈیشن سے منارہ ضرور بنایا جائے اور منارہ کی تعبیر ایسے شخص کی ہوتی ہے جو اسلام کی طرف دعوت دینے والا ہو اور اس کا مطلب یہ تھا کہ فضل عمر فاؤنڈیشن سے جید عالم ضرور پیدا کئے جائیں اس سے بے توجہی نہ برتی جائے۔بہت سی اور خواہیں بھی دوستوں نے دیکھی ہیں۔۔۔ہم نے فیصلہ کیا کہ اس فنڈ کی رقم یعنی جو سرمایہ ہے اس کو خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ جن مقاصد کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام کیا گیا ہے ان کو پورا کر نے کے لیے جس قدر روپیہ کی ہمیں ضرورت پڑے گی وہ اس فنڈ کی آمد سے حاصل کیا جائے گا۔“ حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 514 تا 515) جس شوق اور جذبے سے حضرت خلیفۃ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کہ پہلی تحریک پر احباب جماعت نے حصہ لیا اس کی نظیر مانی مشکل ہے۔اس شوق اور جذبے کی ایک جھلک مندرجہ ذیل واقعہ میں نظر آتی ہے جو ایک مجلس عرفان میں حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے دوران ایک مرتبہ خود بیان فرمایا: وفضل عمر فاؤنڈیشن کا جب چندہ جمع ہو رہا تھا تو ایک دن ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔مجھے دفتر نے اطلاع دی کہ ایک بہت معمر مخلص احمدی آئے ہیں وہ سیڑھی نہیں چڑھ سکتے اور حقیقت یہ تھی کہ یہاں آنا بھی ایک لحاظ سے اپنی جان پر ظلم ہی کیا تھا۔چنانچہ وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔میں نے کہا میں نیچے ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔خیر جب میں گیا پتہ نہیں تھا کہ وہ کیوں آئے ہیں۔مجھے دیکھ کر انہوں نے بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کے لیے زور لگایا تو میں نے کہا نہیں آپ بیٹھے رہیں، وہ بہت معمر تھے، انہوں نے بڑے پیار سے دھوتی کا ایک پلو کھولا اور اس میں سے دو سو روپے) اور کچھ رقم نکالی اور کہنے لگے میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے لیے لے کر آیا ہوں۔پیار کا ایک مظاہرہ ہے۔پس اس قسم کا اخلاص اور پیار اور اللہ تعالیٰ کے لیے قربانی کا یہ جذبہ ہے کہ جتنی بھی توفیق ہے پیش کر دیتے ہیں۔اس سے ثواب ملتا ہے رقم سے تو نہیں ملتا۔“ (حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 515تا516) تحریک کے پہلے دور کا انتقام اور حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کا اظہار تشکر : اس تحریک کا ابتدائی زمانہ ادارہ کے انتظامی امور کی تکمیل کے ساتھ ساتھ وعدوں کے حصول میں اور پھر تین سال وصولی جد و جہد میں گزرے۔عطایا کی ادائیگی کی معیاد 1969ء کے آخری حصہ میں ختم ہو گئی۔گو تحریک کے لیے عطایا کی حد پچیس لاکھ روپیہ مقرر ہوئی تھی مگر مخلصین نے جس جذبہ فدائیت کے ساتھ حصہ لیا اس سے وصولی کے مقدار عملاً چونتیس لاکھ کے لگ بھگ پہنچ گئی۔دور اول کی کامیابی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 397