مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 360
آیت: لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ (سورة التوبه : 128) ترجمہ: یقیناً تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو (اور) وہ تم پر (بھلائی چاہتے ہوئے ) حریص (رہتا) ہے۔مومنوں کے لئے بے حد مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حدیث: (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ الله الا الله قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَ وَلَدِهِ ترجمہ: ہم ނ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب۔الرسول من الايمان) ابو الیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔کہا کہ ابو زناد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی الله فرماتے تھے: اسی کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے باپ اور اس کے بیٹے سے بھی زیادہ اسے پیارا نہ ہوں۔(ترجمه از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کے طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آٹھواں طریقہ ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ تعلق ہو۔یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔جیسا کہ آتا ہے: وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكِةٍ أنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَرُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلئِكَةُ - (البقرة: 249) کہ ایک زمانہ میں ایک نبی سے لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنا ایسا جانشین مقرر کر دیجئے جس سے ہم دنیاوی معاملات میں مدد حاصل کریں لیکن جب ان کے لئے ایک شخص کو جانشین مقرر کیا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ اس میں وہ کون سی بات ہے جو ہمارے اندر نہیں ہے جیسا کہ اب پیغامی کہتے ہیں۔نبی نے کہا: آؤ بتائیں اس میں کون سی بات ہے جو تم میں نہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ اس سے تعلق رکھیں گے ان کو فرشتے تسکین دیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ خلافت کے ساتھ وابستگی بھی ملائکہ سے تعلق پیدا کراتی ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ ان کے دل فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے تابوت کے معنی دل اور سینہ کے ہیں۔فرمایا: خلافت سے تعلق رکھنے والوں کی یہ علامت ہو گی کہ ان کو تسلی حاصل ہو گی پہلے صلحا اور انبیاء کے علم ان پر ملائکہ نازل کریں گے۔پس ملائکہ کا نزول خلافت سے وابستگی پر بھی ہوتا اور ہے۔ملا مگہ اللہ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 561) 360