مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 340 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 340

لکھتے ہیں:۔اماں جی نے بتایا کہ یہ نظم اکمل صاحب کی ہے جو آپ کی شاگرد سکینۃ النساء کے شوہر ہیں۔بیچاروں کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ پر اس کا ایسا اثر ہو کہ حضور کی توجہ فوراً دعا کی طرف پھر گئی اور اس کے بعد حضور نے مجھے وہ رقعہ لکھا جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔اس کے بعد 1910ء میں میرے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے لڑکا تولد ہوا جس کا نام آپ (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ) نے عبدالرحمن رکھا (جنید ہاشمی بی۔اے) اور پونے تین سال بعد 1913ء میں دوسرا لڑکا تولد ہو جس کا نام آپ (حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ) نے عبدالرحیم رکھا ( شبلی ایم کام) اور اس طرح آپ کی دعا کی قبولیت کا ہم نے نظارہ دیکھا۔فالحمد لله على ذلك حیات نور۔صفحہ 430 تا 432) قاضی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی قبولیت دعا کے واقعات کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ بیان کیا ہے۔آپ لکھنو کے شیخ محمد عمر صاحب لاہور میڈیکل میں پڑھتے تھے (جو بعد میں ڈاکٹر محمد عمر صاحب کے نام سے سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص نامور ممبر جناب بابو عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لاہور کے داماد ہوئے) طبیعت ابتدا ہی سے آزاد پائی تھی، کسی کے سامنے جھکتے نہ تھے، بلحاظ وضع قطع اور انداز گفتگو وہ کچھ نہ تھے جو باطن میں تھے، صوم و صلوۃ کے پابند، تہجد خوان، مہمان نواز، غربا مریضوں کے ہمدرد، وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دعا کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ان کی میڈیکل استادوں اور سربراہ سے نہیں بنتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ مجھے کوئی نہ کوئی نقص نکال کر فیل کر دیا جاتا ہے۔جب دو سال متواتر فیل قرار دیئے گئے تو دیدہ و دانستہ حضرت خلیفہ اول کے جذبات کو برانگیخت کرنے کے لئے ان کی محفل میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے واشگاف غیر مومنانہ الفاظ میں کہنے لگے : ”خدایا تو ہے ہی نہیں یا ہے تو میڈیکل ممتحن کے سامنے اس کی پیش نہیں جاتی۔حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ نے سن لیا اور آنکھیں اُوپر اٹھا کر فرمایا: دو ہلا جی! “ (یعنی اچھا جی ) اور پھر اپنے مطلب کے کام میں مشغول ہو گئے۔اسی سال محمد عمر صاحب ڈاکٹر بن گئے اور کامیاب قرار پائے۔میرے پاس آئے کہ اب یہ خبر کس طرح پہنچاؤں اور کس منہ سے حاضر خدمت ہوں۔میں نے کہا: چلو چلتے ہیں۔میں نے بیٹھتے ہی عرض کر دیا کہ محمد عمر پاس ہو گئے۔آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: دیکھا میرے قادر خدا کی قدرت نمائی!“ حیات نور صفحہ 432 و 433) محترم شیخ عبد اللطیف صاحب بٹالوی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسح کی خدمت میں مولوی غلام محمد صاحب امرتسری حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ”دار لضعفا اور سکول میں غریب طالب علم جو غالبا مالا بار کے تھے۔ان کے پاس سردی سے بچنے کیلئے کپڑے نہیں۔حضور (حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ہم ابھی دعا کرتے ہیں۔چنانچہ دعا شروع فرما دی۔دوسرے یا تیسرے دن اٹلی کے اعلیٰ قسم کے کمبل آنے شروع ہو گئے اور جوں جوں آتے حضور (حضرت خلیفۃ اصیح الاول رضی اللہ عنہ ) تقسیم فر ما دیتے۔جب نواں یا گیارہواں کمبل آیا تو آپ (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ) کی اہلیہ محترمہ حضرت اماں جی کو یہ کمبل بہت پسند آیا اور عرض کی کہ یہ کمبل تو ہم نہیں دیں گے۔حضرت نے مسکرا کر فرمایا کہ آج اکیس کمبل آنے تھے 340