مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 339 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 339

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے قبولیت دعا کے واقعات: 7 اپریل 1909 ء کا ذکر ہے حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ درس القرآن کیلئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور سورۃ آل عمران کے پانچوں رکوع کا درس دیا۔اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام پر نازل کئے اور بتایا کہ کس طرح ان کے پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان مہیا کئے کہ جن کے نتیجہ میں ان کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت ہوئی اور وہ ایک خدا نما وجود اور صدیقہ بن گئیں۔دمیں مجھے تھکنا ان مریمی صفات کے ذکر پر حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ کا ذہن قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی طرف منتقل ہو گیا جو اُس نے خود حضور حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ) کی ذات والا صفات کئے تھے اور حضور حضرت خلیفة اصبح الاول رضی اللہ عنہ) نے محبت الہیہ کے جذبات سے سرشار ہو کر فرمایا: تمہیں کہاں تک سناؤں، سناتے سناتے تھک گیا مگر خدا کی نعمتوں کے بیان کرنے سے میں نہیں تھکا اور نہ چاہئے۔اس نے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے ہیں۔یہاں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی نظم چھاپی ہے۔”مجھے معلوم نہ تھا میں اسے پڑھتا اور سجدہ میں گر گر جاتا۔چونکہ وہ بہت درد سے لکھی ہوئی تھی اس لئے اس نے میرے درد مند دل پر بہت اثر کیا۔وہ صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی نظم تھی۔میں جس بات پر شکر کرتا ہوں وہ یہ تھی کہ خدا مجھ پر وہ وقت لایا ہی نہیں (میں یہ کہوں کہ) ” مجھے معلوم نہ تھا میں نے ہوش سنبھالتے ہی مولوی محرم علی مولوی اسماعیل، مولوی اسحاق کی کتابوں نصیحۃ المسلمین ، تقویۃ الایمان، روایت المسلمین وغیرہ کو پڑھا اور ان سے توحید کا وہ سبق پڑھا کہ ہر غلطی سے بحمد اللہ محفوظ رہا غرض خدا تعالیٰ جن کو نوازتا ہے عالم اسباب کو بھی ان کا خادم کر دیتا ہے۔“ نظم جس کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس نے میرے درد مند دل پر بڑا ثر کیا۔مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی تھی جو ان دنوں اخبار بدر کے اسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔اس نظم کا پہلا شعر یہ تھا کہ: عارضی رنگ بقا تھا مجھے معلوم نہ تھا سرمه چشم فنا تھا مجھے معلوم نہ تھا مکرم قاضی صاحب اسی سلسلہ میں حضور رضی اللہ عنہ کی قبولیت دعا کا ایک عجیب واقعہ بیان فرماتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں: میں دفتر ”بدر میں حسب معمول ایک دن چار پائی پر لیٹے ہوئے بستر کو تکیہ بنائے اور آگے میز رکھے دفتر ایڈیٹر و منیجر کا فرض بجا لا رہا تھا جو مجھے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی ایک چٹ ملی جس پر مرقوم تھا: ” میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اللہ تعالیٰ نعم البدل دے گا۔وَلَمْ أَكُنُ بِدُعَا ئِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔میں کچھ حیرت زدہ ہوا کیونکہ یہ تو درست بات تھی کہ میرے دو لڑکے یکے بعد دیگرے چالیس دن کے اندر گولیکی (ضلع گجرات) میں فوت ہو چکے تھے، جمشید سات اکتوبر 1908ء کو ساڑھے نو ماہ اور خورشید پلوٹھا گیارہ نومبر 1908ء کو بعمر 5 سال 8 ماہ مگر میں نے حضور حضرت خلیفة امسیح الاول رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں دعا کی کوئی تحریک نہیں کی تھی۔آخر معلوم ہوا کہ میری یہ نظم والده عبدالسلام مرحوم حضرت اماں جی نے گھر میں ترنم سے پڑھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ آنکھیں بند کئے لیٹے ہوئے تھے جو ناگاہ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: سے الحمد للہ مجھے تو معلوم تھا۔“ 339