مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 330
ہے اس کے ایمان میں کوئی تزلزل نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس کے لئے ایسے کام دکھاتی ہے کہ دنیا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔" دو لقائے الہی کا مضمون : (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ نمبر 777 تا 778) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 20 اپریل1990 ء میں فرمایا: رات رویا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مضمون کو ایک اور طریق پر دکھایا اور ساتھ ہی قرآن کریم کی ایک آیت کی ایک نئی ( تشریح) سمجھائی جس کا لقا سے بڑا گہرا تعلق ہے اور دراصل جو مضمون میں آج کے خطبہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اسی کی تمہید ہے جو مجھے سمجھائی گئی ہے۔رویا بڑی عجیب اور دلچسپ ہے۔میں نے دیکھا کہ ربوہ میں کھلے گھاس کے میدان میں اکیلا بیٹھا ہوا ہوں اور وہاں سے پاکستان سے مختلف پروفیشنل گانے والے جو ریڈیوں یا ٹیلی ویژن وغیرہ میں گانوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ کسی تقریب میں شمولیت کی غرض سے آئے ہوئے ہیں اور ان کا جو رستہ ہے ان کے درمیان اور میرے درمیان ایک دیوار حائل ہے گویا اس رستے پر جس پر وہ چل رہے ہیں ایک دیوار کی اوٹ ہے لیکن بعض در کھلے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک در سے گزرتے ہوئے ان میں سے ایک شخص کی نظر مجھ پر پڑتی ہے اور خواب میں مجھ پر یہ تاثر ہے کہ یہ مجھے جانتا ہے اور میں اس کو جانتا ہوں اور جس طرح انسان جانی پہچانی شکل کو ملنے کے لیے آگے بڑھتا ہے وہ میری طرف آگے بڑھتا ہے لیکن قریب آنے کی بجائے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر مجھے پنجابی میں کچھ شعر سناتا ہے وہ جو پنجابی کے شعر ہیں وہ اس رنگ کے ہیں جیسے بعض دیہاتیوں کو یا کم علم والوں کو بعض دفعہ کوئی نکتہ ہاتھ آجائے تو وہ اسے بڑے فخر سے بڑے بڑے علما کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر مجلسوں میں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سوال کیا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔اس رنگ کا کوئی نقطہ ہے جو ایک پنجابی میں اس نے یاد کیا ہوا ہے اور وہ سوالیہ رنگ میں میرے سامنے رکھتا ہے لیکن اس کی طرز میں تکبر یا دکھاوا نہیں بلکہ وہ واقعتا اس نکتے میں الجھا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اس کے طرز بیان میں ایک درد پایا جاتا ہے۔پنجابی کے وہ شعر مجھے یاد تو نہیں مگر چند شعر ہیں، ان کا مضمون یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو یہ کائنات ہے اس کے راز تو بہت گہرے ہیں اور ہماری آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتیں اور ہماری آنکھیں جو دیکھتی ہیں وہ ہمیں کچھ اور منظر دکھاتی ہیں اور خدا کے قدرت کے راز یا عرفان کی باتیں ہیں ان تک ہماری آنکھیں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور نہ ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہماری آنکھیں ٹیڑھا دیکھ رہی ہیں اور یہ کہتے کہتے وہ بڑے درد سے اپنی آنکھ کے نچلے پردوں کو انگلیوں سے نوچ کر نیچے کر کے آنکھیں ڈھا کتا ہے جن میں ایک قسم کی سرخی پائی جاتی ہے جیسے رو رو کے سرخی پیدا ہوگئی ہو اور وہ نظم میں ہی کہتا ہے کہ دیکھیں ان آنکھوں کی وجہ سے ہمارا کیا قصور ہے؟ ہمیں تو خدا نے آنکھیں وہ دی ہیں جو غلط دیکھ رہی ہیں اور اس کے رازوں کی حقیقت کو پانہیں سکتے تو اب بتائیں کہ ہم کیا کریں؟ ہم کیسے سمجھیں؟ یہ نظم جب مکمل ہو جاتی ہے تو میں اس کو اشارہ کہتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں اور میں آپ کو یہ مضمون سمجھاتا ہوں اور اتنے میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی خبر باقی ساتھیوں کو بھی پہنچ گئی ہے اور وہ دور دور سے واپس مڑے ہیں اور ایک دائرے کی شکل میں مجلس بنا کر میری بات سننے کے لئے بیٹھ گئے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نے بظاہر بڑی الجھی ہوئی بات پیش کی ہے لیکن میں اس 330