مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 328 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 328

پیدا ہوئے تو خدا خود بھی حفاظت فرمائے گا اور ہمیں کسی غیر کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے اور پھر انجام میں خدا تعالیٰ ایک دعوت دکھاتا ہے اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جن کے متعلق الہاماً خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ: ” مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا ایسی آئی جنہیں ایہہ مصیبت پائی (تذکرہ صفحہ (277) یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پنجابی میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے متعلق ہوا تھا جسکا مطلب یہ ہے کہ نام بھی مبارک ہے اور ان کی معیت بھی مبارک ہے اور کبھی یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ آئیں اور کوئی مصیبت ساتھ رہے ان کے آنے سے مصیبتیں ٹل تو جائیں گی آنہیں سکتیں ساتھ اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔تو معنوی لحاظ سے بھی اور الہامات کی روشنی میں ہر لحاظ سے یہ خواہیں اور جو ایک ترتیب میں آئی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے لئے بہت ہی مبارک ہیں اور مجھے اندازہ ہے نظر آ رہا ہے بلکہ کہ خدا تعالیٰ جلد جلد انشاء اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو غیر معمولی تائیدی نشان دکھائے گا لیکن ان مبشرات کا ایک تقاضا بھی ہے اس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ کچھ تائیدی نشان دکھاتا ہے تو اس کے مقابل پر جماعت پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور پہلے خوشخبریاں دکھانا ایک پیغام بھی رکھتا ہے کہ ان خوش خبریوں کے اہل بننے کی کوشش کرو اور ان کے مستحق ہونے کے لئے کرو ،، سلامتی و ظفر کا وعدہ: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جد و جہد (خطبه جمعه فرموده 17 فروری 1984 خطات طاہر جلد 4 صفحہ نمبر 97 تا99) اللہ تعالیٰ نے پہلے مجھے رؤیا کے ذریعہ بعض خوشخبریاں عطا فرما ئیں اور پھر ایک بہت ہی پیارا کشفی نظارہ دکھایا جو میں آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔چند روز پہلے تقریباً دو ہفتے پہلے شاید اچانک میں نے ایک نظارہ دیکھا کہ اسلام آباد جو انگلستان میں ہے اس وقت ہمارا یورپین مرکز انگلستان کے لئے، وہاں میں داخل ہو رہا ہوں اس کمرے میں جہاں ہم نے نماز پڑھی تھی اور سب دوست صفیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اسی طرح انتظار میں تو عین مصلے کے پیچھے چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی اس عمر کے ہیں نظر آ رہے ہیں جو پندرہ ہیں سال پہلے کی تھی اور رومی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، وہ جو پرانے زمانہ میں پہنا کرتے تھے اور نہایت ہشاش بشاش عین امام کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے دیکھتے ہی وہ نماز کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے اور میں ان کی طرف بڑھنے لگا کہ پوچھوں چودھری صاحب آپ کب آئے؟ آپ تو بیمار تھے، اچانک کیسے آنا ہوا؟ تو وہ نظارہ جاتا آنکھیں کھلی تھیں اور جو منظر سامنے ویسے تھا وہ سامنے آگیا۔تو اللہ تعالیٰ ایسی خوش خبریاں عطا فرما رہا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت اور اس کے ظفر کے وعدے انشاء اللہ تعالیٰ جلد پورے ہوں گے تو یہ باتیں ان کے علاوہ ہیں۔جماعت تو ہر حال میں ترقی کر رہی ہے جتنا خدا انتظار کروائے ہم کریں گے انشاء اللہ کیونکہ ہم کھو کچھ نہیں رہے ہمارے ہاتھ سے جا کچھ نہیں رہا اس لئے نقصان کا کوئی سودا تو ہے ہی نہیں، میں اس لئے تسلی نہیں دے رہا مگر میں یہ بتا رہا ہوں کہ اللہ کے رنگ عجیب ہیں۔وہ بظاہر قربانی لیتا ہے اور حقیقت میں وہ ترقی ہو رہی ہوتی ہے اور پھر اس مزے اس روحانی لذت کے بھی بدلے عطا فرماتا ہے۔یہ وعدے ہیں خدا کے جن کی طرف میں آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔چنانچہ اس کشفی نظارے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کرم رہا۔328