مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 307 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 307

(رویا کشوف سید نا محمود صفحہ نمبر 8 تا9) 1909ء میں ہونے والا الہام: حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمایا: ” مجھے بھی خدا تعالیٰ نے پہلے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔“ ستمبر 1913ء کی رؤیا: حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرمایا: ہے الفضل 8 اپریل 1915 ء) 1913ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خليفة امسیح (الاول) کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت اور قریباً دو بجے ہیں، میں اپنے کمرہ (قادیاں) میں بیٹھا ہوں۔مرزا عبدالغفور صاحب (جو کلا نور کے رہنے والے ہیں) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سو دو (102) کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔جب میں نے یہ رویا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کر لوں کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ واقع میں بیمار ہیں؟ سو میں نے وہاں سے تار (Telegram) دیا کہ حضور کا کیا حال ہے؟ جس کے جواب میں حضرت صاحب نے لکھا کہ اچھے ہیں۔یہ رویا میں نے اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی۔اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت صاحب کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر سکتا۔اول تو یہ کہ حضور رضی اللہ عنہ کی وفات تپ سے ہو گی۔دوم یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے۔سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینے میں ہوگی۔چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہو گا۔سے یہ اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کر دوں تو نامناسب نہ ہو گا کہ اس رؤیا۔بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہو سکتا تھا؟ بات کہ بدر میں دیکھ لیں تشریح طلب ہے کیونکہ وہ اس وقت بند تھا۔بدر اصل میں چودھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایک قسم کے اخفا رکھنے کے لیے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام 307