مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 306 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 306

رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تو کشمیر دیکھنا چاہتا ہے؟ حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ یہ فرما کر ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم چلدیئے اور حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے تھے، بانہال کے راستہ کشمیر گئے۔یہ گویا بھیرہ چھوڑنے اور کشمیر کی ملازمت کی تحریک تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوئی۔(حیاتِ نور صفحہ 96 تا 97) آخری بیماری کے دوران میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے تین الہام: فروری 1914ء کے آخر اور مارچ 1914ء کے شروع میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی طبیعت بدستور علیل رہی۔حرارت بھی ہو جاتی تھی اور رات کے وقت کھانسی کی تکلیف بھی ہو جاتی تھی۔ان ایام میں حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کو تین الہام ہوئے۔۔(1 (2 (3 إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ - الْحُمى مِنْ نَّارٍ جَهَنَّمَ فَاطْفَوْهَا بِالْمَاءِ 3 بتایا گیا کہ اکثر بیماریوں کا علاج ہوا، پانی اور آگ سے اور دردوں کا آگ اور پانی سے۔پھر فرمایا بہت حکمتیں کھلی ہیں۔انشاء اللہ طبیعت بحال ہونے پر بتا ؤں گا۔رویا وکشوف حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ 1905ء میں ہونے والا الہام: (حیات نور صفحہ 696) حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو اوائل عمری میں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رؤیا، کشوف اور الہامات سے نوازا گیا چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابھی سترہ سال کا تھا جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھ لیے کہ إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُواكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِیمَةِ کہ وہ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک ان لوگوں پر فوقیت اور غلبہ دے گا جو تیرے منکر ہوں گے۔“ افضل 9 جولائی 1937 ، صفحہ 4 ایک بار فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ الہام میرے متعلق ہے خدا تعالیٰ نے مجھے ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ دنیا اس کی مخالفت کے لیے آگئی، بیرونی مخالف بھی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور منافق بھی اپنے سروں کو اٹھا کر یہ سمجھنے لگے کہ اب ان کی کامیابی کا وقت آگیا ہے مگر میں حضرت نوح علیہ السلام کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ جاؤ اور تم سب کے سب مل جاؤ اور سب مل کر اکھٹے ہو کر مجھ پر حملہ کرو اور تم مجھے کوئی ڈھیل نہ دو اور مجھے تباہ کرنے اور مٹانے کے لیے متحد ہو جاؤ پھر بھی یاد رکھو کہ خدا تمہیں ذلیل اور رسوا کرے گا اور شکست پر شکست دے گا اور مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کرے گا۔“ 306