مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 253 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 253

سیکنڈری بورڈ میں بطور ڈپٹی سیکرٹری پوسٹ ہوئے تو ربوہ تشریف لائے اور چودھری محمد علی صاحب کے پاس ٹھہرے۔انہوں نے پرنسپل صاحب کی کوٹھی پر متعین پٹھان چوکیدار یا ملازم سے آپ کے شب و روز کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ کا کیا پوچھتے ہیں۔آپ تو سارا دن کام کر کے سخت تھک جاتے ہیں رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں اور پھر ڈرائنگ روم میں تہجد ادا کرتے ہیں اور مناجات کرنے اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانے کی آوازیں باہر تک آتی ہیں۔ذکر الہی کی آپ کو شروع سے ہی عادت تھی۔اکثر اوقات آپ ایک طرف کا غذات پر دستخط فرما رہے ہوتے اور دوسری طرف دل میں خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہے ہوتے اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی صلاله پر درود و سلام نتیج رہے ہوتے۔چنانچہ ایک مرتبہ اس امر کا اظہار آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے دوران ایک جلسہ سالانہ پر بھی کیا تھا اور فرمایا تھا کہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار پاس کھڑے ہوئے ہیڈ کلرک جنید ہاشمی صاحب کو بھی تحریک کی تھی کہ وہ کاغذات لے کر کھڑے ہیں اور دستخطوں کے دوران وہ بھی ذکر الہی کریں۔عشق قرآن : حضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں حیات ناصر - صفحہ 217 ) قرآن جو ہمارے لئے ایک مکمل ہدایت ہے، قرآن جو خدائے واحد و یگانہ کی رحمانیت کو حرکت میں لاتا ہے، قرآن جو زبان اور اعمال کی کجیوں کو دور کرتا ہے، قرآن جب ہمارے دل میں اترتا اور ہماری زبان پر جاری ہو تا ہے تو اس کی برکت سے ہماری زندگی کی سب الجھنیں سلجھ جاتی ہے۔قرآن خود کلید قرآن ہے۔پس قرآن پڑھو، قرآن پڑھو۔“ 66 حیات ناصر۔صفحہ 310 ) حضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے کہ اس میں انسان کی تمام ضروریات کا حل موجود ہے۔علمی لحاظ سے بھی اور عمل کر کے فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے بھی۔“ میں نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے دنیا کے چوٹی کے دانشوروں میں سے بعض کے ساتھ باتیں کی ہیں اور ہر ایک کو اس بات کا قائل کیا ہے کہ تمہارے علم کے متعلق بھی قرآن کریم ہمیں بنیادی حقیقت بتاتا ہے جیسے بعض دفعہ تم خود بھول جاتے ہو۔مثلاً کیمسٹری (کیمیا) کا علم ہے۔میں اس مضمون کا گریجوایٹ نہیں ہوں۔نہ میں نے سکول میں کیمسٹری پڑھی ہے نہ کالج میں۔لیکن ابھی پچھلے دنوں ایک احمدی طالب علم میری ملاقات ہوئی جو کیمسٹری میں پی۔ایچ۔ڈی کر رہا تھا۔اس کو میں نے کیمیا کے متعلق بتانا شروع کیا اور جب یہ کہا کہ میں نے کیمیا کے متعلق قرآن کریم سے سیکھا ہے تو وہ حیران ہو کر میرا منہ دیکھنے لگا کیونکہ وہ حقیقت جو مختلف علوم کے اساتذہ کو معلوم نہیں وہ قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم بڑی عظیم کتاب ہے اور بڑی برکتوں والی کتاب ہے۔“ بعض نادان لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں۔چودہ سو سال پہلے کی کتاب ہے۔آج کے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔خود میرے سامنے ہر قسم کے لوگ بات کرتے ہیں میں ایسے لوگوں سے کہا کر تا ہوں کہ چودہ سو سال پہلے جس خدا نے اس کتاب کو نازل کیا تھا وہ آج کے مسائل بھی جانتا تھا اس لئے یہ آج کے مسائل کو حل کر سکتی ہے اور کیسے حل کرے گی یہ تو ایک فلسفہ ہے۔رہی حقیقت تو تم کوئی مسئلہ پیش کرو۔میں اسے 253