مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 223 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 223

بفضل قیام اسلام آباد کے دوران 26 مئی 1982ء کو حضور پُر نور رحمہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت علیل ہو گئی۔بروقت علاج سے تعالیٰ افاقہ ہو گیا لیکن 31 مئی کو اچانک طبیعت پھر خراب ہو گئی۔ڈاکٹری تشخیص سے معلوم ہوا کہ دل کا شدید حملہ ہوا ہے۔علاج کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور 8 جون تک صحت میں بتدریج بہتری پیدا ہوتی گئی لیکن 8 اور 9 جون یعنی منگل اور بدھ کی درمیانی شب پونے بارہ بجے کے قریب دل کا دورہ شدید حملہ ہوا اور بقضائے الہی پونے ایک بجے رات بیت الفضل“ اسلام آباد پاکستان ه میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ " 9 جون 1982ء کو و حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کا جسدِ اطہر اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا۔10 جون کو سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعد نماز عصر احاطہ بہشتی مقبرہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں ایک لاکھ کے قریب احباب شریک ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں جانب شرق حضور کی تدفین عمل میں آئی۔حضور رحمہ اللہ تعالی نے 73 برس کی عمر پائی۔(حیات ناصر جلد 1 صفحہ 428،77 از محمود مجیب اصغر صاحب) دور خلافت رابعه سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی (1928ء تا2003ء): ابتدائی زندگی ہمارے پیارے امام حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت مصلح موعود کے حرم ثالث حضرت سیدہ ام طاہر مریم بیگم صاحبہ کے بطن سے 18 دسمبر 1928ء (5 رجب 1347ھ) کو پیدا ہوئے۔الفضل 21 دسمبر 1928ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے نانا حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کلر سیداں تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے ایک مشہور سید خاندان کے چشم و چراغ تھے۔بڑے عابد و زاہد اور مستجاب الدعوت بزرگ تھے جنہوں نے 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی والدہ حضرت سیده مریم بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا بھی نہایت پارسار اور بزرگ خاتون تھیں جو اپنے اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت کا بے حد خیال رکھتی تھیں اور اسے نیک، صالح اور عاشق قرآن دیکھنا چاہتی تھیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے 1942ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک پاس کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔7 دسمبر 1947ء کو جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور 1953ء میں نمایاں کامیابی کے ساتھ شاہد کیا۔اپریل 1955 ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ یورپ تشریف لے گئے اور لنڈن یونیورسٹی (University of London) کے سکول آف اورینٹل اسٹڈیز (School of Oriantle Studies) میں تعلیم حاصل کی۔14 اکتوبر 1957ء کو ربوہ واپس تشریف لائے۔12 نومبر 1958ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کو وقف جدید کی تنظیم کا ناظم ارشاد مقرر فرمایا۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اس تنظیم نے بڑی تیز رفتاری سے ترقی کی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری سال میں اس تنظیم کا بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے تھا جو خلافت ثالثہ کے آخری سال میں 223