مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 211 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 211

دیں بے شمار تقاریر کیں۔مباحثات کئے اور متعدد مقامات پر جماعتیں قائم کیں۔(2) مساجد، مدرسه احمد بید، گرلز سکول، بورڈنگ اور اخبار نور کا اجرا اور انجمن انصار اللہ کا قیام: آپ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں گرلز سکول اور اخبار نور کا 1909 ء میں اجرا ہوا۔نیز مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔1910ء میں مسجد نور کی بنیاد رکھی گئی۔اسی طرح مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی بنیاد رکھی گئی۔مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی، حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ) کی کوششوں سے انجمن انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا اور اخبار الفضل جاری ہوا۔1913ء میں یورپ میں سب سے پہلا احمد یہ مشن قائم ہوا۔منکرین خلافت کا پہلا فتنہ اور اس کا تدارک: ایک عظیم کارنامہ: مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو صدر انجمن احمدیہ کے سرکردہ ممبر تھے ابتدا سے ہی مغربیت زدہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی ان کی یہ خواہش تھی کہ جماعت کا نظام اسی رنگ میں چلائیں۔جیسے دنیاوی انجمنیں چلاتی ہیں۔اسی وجہ سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی لنگر خانہ کے انتظام اور سلسلہ کے دوسرے کاموں پر اعتراض کرتے رہتے تھے اور اخراجات کے بارے میں حضور کی ذات پر بھی نکتہ چینی کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔حضور کی زندگی میں تو ان کی کچھ پیش نہیں گئی لیکن حضرت خلیفہ امسیح الاول کی زندگی میں انہوں نے پر پرزے نکالنے شروع کئے۔خلافت کے دور میں جو پہلا جلسہ سالانہ دسمبر 1908ء میں ہوا اس میں ایسی تقاریر کا انتظام کیا جس سے مقصود جماعت میں خیال پیدا کرنا تھا کہ دراصل صدر انجمن احمدیہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین اور خلیفہ ہے لیکن حضرت خلیفہ اول نے ان خیالات کی تردید کرتے ہوئے ضرورتِ خلافت اورا طاعت خلیفہ پر زوردیا اور فرمایا: " تم نے خود میری بیعت کی بلکہ میرے مولیٰ نے تمہارے دلوں کو میری طرف جھکا دیا۔پس تمہیں میری فرمانبرداری ضروری ہے۔“ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی وجہ سے جماعت میں جو انتشار پیدا ہونے لگا تھا اس کے ازالہ کے لئے حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ نے 31 جنوری 1909ء کو نمائندگان جماعت کو قادیان میں طلب کیا اور واضح الفاظ میں یہ فیصلہ فرمایا کہ صدر انجمن تو محض ایک تنظیمی ادارہ ہے، جماعت کا امام اور مطاع تو صرف خلیفہ ہی ہے۔اس اجتماع میں مندرجہ بالا دونوں حضرات سے جن میں سرکشی پائی جاتی تھی، حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ نے دوبارہ بیعت اطاعت لی لیکن بیعت کر لینے اور اقرار اطاعت کے باوجود ان حضرات کے دل صاف نہ ہوئے اور وہ تمرد اور سرکشی میں بڑھتے گئے یہاں کھلا مخالفت پر اتر آئے اور آپ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے لگے۔1910ء میں حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ گھوڑے سے گر گئے اور بہت چوٹیں آئیں۔علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا۔اس دوران ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اُمسیح الاول رضی اللہ عنہ نے وصیت تحریر فرمائی جو صرف دو الفاظ پر مشتمل تھی یعنی ”خلیفہ کہ کھلم کھ 211