مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 200
میں ظاہر ہوں گے یعنی ملک ہند میں۔پھر مسیح موعود یا اس کا کوئی خلیفہ سر زمین دمشق کی طرف سفر کرے گا۔سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " دنیا کے مذاہب کی حفاظت کے لئے مؤید من اللہ ، نصرت یافتہ پیدا نہیں ہوتے۔اسلام کے اندر کیسا فضل اور احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں میں دعاؤں کے مانگنے والا، خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان، شرارتوں اور عداوتوں کے بد نتائج سے آگاہ، بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سبھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفا پیدا کرے گا۔“ سمجھ (الحكم 17 جولائی 1902ء صفحہ 15) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پس یہ امر تو خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے اور جب یہ اس کا قائم کردہ سلسلہ ہے تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ میری موت کا وقت آ جائے اور دنیا یہ کہے کہ مجھے اپنے کام میں کامیابی نہیں ہوئی۔میری وفات خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق اس دن ہو گی جس دن میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کامیابی کے ساتھ اپنے کام ختم کروں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو جائیں گی جن میں میرے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کی خبر دی گئی ہے اور وہ شخص بالکل عدم علم اور جہالت کا شکار ہے جو ڈرتا ہے کہ میرے مرنے سے کیا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں تو جاتا ہوں لیکن خدا تمہارے لئے قدرت ثانیہ بھیج دے گا مگر ہمارے خدا کے پاس قدرت ثانیہ ہی نہیں اس کے پاس قدرت ثالثہ بھی ہے اور اس کے پاس قدرت ثالثہ ہی نہیں قدرت رابعہ بھی ہے۔قدرت اولی کے بعد قدرت ثانیہ ظاہر ہوئی اور جب تک خدا اس سلسلہ کو ساری دنیا میں نہیں پھیلا دیتا اس وقت تک قدرت ثانیہ کے بعد قدرت ثالثہ آئے گی، قدرت ثالثہ کے بعد قدرت رابعہ آئے گی، قدرت رابعہ کے بعد قدرت خامسہ آئے گی، قدرت خامسہ کے بعد قدرت سادسہ آئے گی اور خدا کا ہاتھ لوگوں کو معجزہ دکھاتا چلا جائے گا اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت اور زبر دست سے زبردست بادشاہ بھی اس سکیم اور مقصد کے راستہ میں کھڑا نہیں ہو سکتا جس مقصد کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو پہلی اینٹ بنایا اور مجھے اس نے دوسری اینٹ بنایا۔“ (خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1950 مطبوعه روزنامه الفضل 22 ستمبر 1950 صفحہ 6) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی ایک مبشر رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں ! کہ الہی میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہوا۔پھر جوش میں آ کر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں، اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دو قائمقام کھڑے کر دیئے۔یہاں ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہو جانا چاہئے۔“۔عرفان الہی انوار العلوم جلد 4 صفحہ 288) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے اعزاز میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے دی جانے والی الوداعی دعوت میں خطاب کرتے ہوئے 29اکتوبر 1969ء کو فرمایا کہ: 200