مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 195
سنے، آفتاب برج جوزا پر پہنچتے ہی ایک منارہ کی طرف لپکا۔اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہو گیا اس کے چار پر تھے۔۔۔اگلے حصہ پر ” نور“ لکھا ہوا تھا اور دوسرے پر کے 1/3 حصہ پر محمود، تیسرے پر عین وسط میں ناصر الدین اور چوتھے پر اہل بیت۔“ 66 کوکب دری از آغا محمد عبد العزیز فاروقی احمدی صفحہ 45 مطبوعہ لکشمی آرٹ سٹیم پریس راولپنڈی 1930ء) خلافت راشدہ کے اوقات: حضرت شاہ اسماعیل شہید خلافت کے بارہ میں فرماتے ہیں: کرتی پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سر بلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدی میں سے کسی امام کو ظاہر ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ ”خلافتِ راشدہ کا زمانہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمہیں سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشدہ متصل اور تواتر طریق پر تمیں سال تک رہے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت راشدہ کا زمانہ وہی تمہیں سال ہے اور بس! بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشدہ تمیں سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت راشدہ کبھی آ ہی نہیں سکتی بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت راشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سكت۔ہو تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علی منھاج النبوۃ قائم۔گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور : تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کوختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔اور یہ بھی امر ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خلافت، خلافت راشدہ سے افضل انواع میں سے ہو گی یعنی وہ خلافت "منتظمہ محفوظہ “ ہو گی۔“ (” منصب امامت از حضرت شاہ اسمعیل شہید۔صفحہ 117 و 118 ناشر مگی دارالکتب اردو بازار لاہور 1994ء) مولانا ابوالکلام آزاد خلافت کے بارہ میں لکھتے ہیں: احادیث میں نہایت کثرت کے ساتھ اسلام کے ایک آخری دور کی بھی خبر دی ہے جو اپنے برکات کے اعتبار سے دور اول کے خصائص تازہ کر دے گا اور جس کا حال یہ ہو گا کہ: " لَا يَدْرِى أَوَّلَهَا خَيْرًا أَمْ اَخِرَهَا۔نہیں کہا جا سکتا کہ امت کی ابتدا زیادہ کامیاب تھی یا اس کا اختتام ؟ یہی وہ آخری زمانہ ہو گا جب اللہ کا اعلان اپنے کامل معنوں میں پورا ہو کر رہے گا: 195