مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 192 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 192

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ دین جب خطرہ میں ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کیلئے اہل فارس میں سے کچھ افراد کھڑا کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان میں سے ایک فرد تھے اور ایک فرد میں ہوں لیکن رجال کے ماتحت ممکن ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ اور لوگ بھی ایسے ہوں جو دین اسلام کی عظمت قائم رکھنے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔“ پیش گوئی مخیر صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم: (خطبہ جمعہ فرموده 8 ستمبر 1950ء روزنامه الفضل 22 ستمبر 1950 صفحہ 6) عَنْ حُذِيفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمُ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 273 - مقلوة بَابُ الْإِندَارِ وَالتَّحْذِير) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت عـلـى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔خلافت احمدیہ اور صحف قدیمہ: حضرت مسیح کی آمد ثانی اور اس کی روحانی بادشاہت کے متعلق یہود کی شریعت کی کتاب طالمود میں لکھا ہے کہ : "I " The Rabbis are divided as to the continuance of the Messiah: some say forty years, some seventy years, some three generations, and some say that He will continue as long as from the creation of the world or the time up to the present time۔" Others say that the kingdom of the of Noah when there is a good Messiah will endure for thousands of years, as government it is not quickly dissolved۔" it is also said that He shall die, and His kindom descend to His son and grandson۔In proof of this opinion Issaiah XLii۔4 is quoted: " He shall not fail nor be discouraged, till He have set judgement in the earth۔" ( طالمود اس جوزف باکلے ایل ایل ڈی مطبوعہ لنڈن 1878ء صفحہ 37) ترجمہ: مسیح کے قیام کے متعلق ربیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے کچھ کہتے ہیں کہ چالیس سال کچھ کہتے ہیں ستر 192