مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 191 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 191

" (تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 3 صفحہ 505) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔یعنی خدا وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا۔یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسے ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔“ خلافت احمدیہ کے متعلق قرآن کی پیش گوئی: ) جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290) ارشاد خداوندی ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ - وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔(سورة الجمعه آیت 4-3 ) ترجمعہ: وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی ان سے نہیں ملے۔وہ کامل غلبہ والا ( اور ) صاحب حکمت ہے۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) نظام خلافت کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں: سورة الجمعہ کی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کی تفسیر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جَلُوْسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةُ: ” وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالَ: قُلْتُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَلَمْ يُرَاجِعُهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا وَّ فِيْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِندَ القُرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ۔( بخاری کتاب التفسير سورة الجمعه باب وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ) ترجمہ: حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الجمعہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ نازل ہوئی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ابھم نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب نہ دیا یہاں تک کہ انہوں نے (یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) نے تین دفعہ سوال کیا اور ہم میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی پر رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا جائے تو ان میں سے کچھ مرد یا ایک مرد اسے واپس لے آئے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ حدیث مبارکہ میں آنے والے لفظ ”رِجَالٌ “ کی تشریح میں فرماتے ہیں: 191