مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 180
ہے اور میر محمد اسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد ابراہیم کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دو قائمقام کھڑے کر دیئے۔یہ ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہونا چاہئے۔“ (عرفان الہی انوار العلوم جلد 4 صفحہ 288) اس رویا میں دو بیٹوں کی خبر ہے لہذا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ منتخب ہوئے اور اس رویا میں حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مراد حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے مراد حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہیں۔احباب جماعت کی گواہیاں: حضرت مرزا طاہر احمد خلیفتہ امسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے مند خلافت پر متمکن ہونے کے متعلق کئی افراد کو قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ خلعت خلافت پہنائے گا۔چنانچہ کتاب ایک مرد خدا میں لکھا ہے: ان میں سے ایک تو انور کاہلوں صاحب تھے۔انہیں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی پیدائش کا دن خوب یاد تھا، اسی دن تو قادیان میں پہلی بار ریل گاڑی آئی تھی۔اگرچہ انور کاہلوں عمر میں دس سال بڑے تھے، جن دنوں (حضرت) خلیفہ رابع لندن میں زیر تعلیم تھے دونوں میں بہت گہرے دوستانہ روابط قائم ہو گئے تھے، انور کاہلوں ایک کامیاب تاجر تھے اور کاروبار سے ریٹائرڈ ہونے سے امیر جماعت ہائے احمدیہ برطانیہ کے منصب تک پہنچ چکے تھے، انہوں نے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے (حضرت) خلیفہ رابع کا بچپن کے دنوں میں بھی ہمیشہ آپ کہہ کر ہی مخاطب کیا (حضرت) مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے کی حیثیت سے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔کچھ لوگ انہیں ” آپ " کہہ کر ہی پکارتے تھے اگرچہ کچھ لوگ ایسا نہیں بھی کرتے تھے، بچپن میں انور کاہلوں کی والدہ نے انہیں تاکید کی تھی کہ وہ (حضرت) مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ افراد خاندان بالعموم اور صاحبزادہ مرزا طاہر احمد سے بالخصوص ہمیشہ ادب اور احترام سے پیش آیا کریں۔جب انور نے اس کی وجہ پوچھی تو ان کی والدہ صاحبہ نے کہا کہ وجہ تو میں نہیں بتاؤں گی لیکن میری نصیحت عمل ضرور کرنا۔انور نے وعدہ کیا کہ ایسا ہی کروں گا۔اس وعدے کی خاطر جو انہوں نے پچاس سال پہلے اپنی والدہ سے کیا تھا اور باوجود اس کے صاحبزادہ صاحب ان سے دس سال چھوٹے تھے، انور کاہلوں انہیں ہمیشہ ادب و احترام کے ساتھ ” آپ“ کہہ کر مخاطب کرتے رہے، جیسا کہ اوپر ذکر آ چکا ہے لندن میں قیام کے دوران انور کاہلوں اور ان کی اہلیہ امینہ بیگم کے صاحبزادہ مرزا طاہر احمد سے گہرے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے یہاں تک کہ امینہ بیگم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کو مخاطب کرتے وقت بے تکلفی سے واحد حاضر کا صیغہ استعمال کرنے لگیں وہ انہیں ”طاہری“ کہہ کر پکارتیں لیکن انور کاہلوں بدستور ادب سے آپ کہہ کر ہی ان سے مخاطب ہوتے۔جب صاحبزادہ صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ انور کاہلوں کا انداز تخاطب محسوس کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ ” ہاں محسوس تو کیا ہے لیکن لیکن مجھے اس کا سبب معلوم نہیں۔“ سبب تو اس کا انور کاہلوں کو بھی معلوم نہیں تھا انہیں تو بس اتنا پتہ تھا کہ یہ ان کی والدہ کی خواہش تھی لیکن جب خلافت رابعہ کا انتخاب ہو چکا تو انور کاہلوں کے والد صاحب نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے بتایا: وو پر 180