مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 112
سے مباحثہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ناپاک اعتراض کئے۔کیا خدا تعالیٰ کے مامور کا انکا رلعنت نہیں؟ مباہلہ کا نشان اُن کے لیے ظاہر ہو گیا کہ ان کے ایمان سلب ہو گئے۔صداقت کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس سے ایمان بڑھتا ہے لیکن جھوٹ ایمان کو ضائع کر دیتا ہے میری صداقت پر خود ان کی کارروائیوں سے مہر لگ گئی اور مباہلہ کا نشان پورا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمانی موت دے دی جسمانی باقی ہے وہ بھی انشاء اللہ آسمانی عذابوں کے ساتھ ہو گی۔“ (2 فتنه مستریان مباہلہ - صفحہ 54) دوسرا فتنہ مصریوں کے فتنے کے نام سے مشہور ہے۔شیخ عبدالرحمان مصرکی نے ابتدا میں تو حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی لیکن بعد میں اُن کا نکتہ نظر تبدیل ہو گیا اور کہنے لگے کہ نبی کے بعد ایک خلیفہ ہی ہوتا ہے اور پھر مطالبہ کرنے لگے کہ انتخاب خلافت دوبارہ ہونا چاہیئے۔یوں وہ آہستہ آہستہ لاہوریوں سے جا ملے لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مصری صاحب کی اُن سے بھی لڑائی ہو گئی۔مصری صاحب ابتدا میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے عین مطابق مبعوث ہونے والا نبی مانتے تھے اور اب ان کے بعد جاری خلافت کی بھی بیعت کر چکے تھے حضرت خلیفۃ اصیح الاول کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی کی لیکن اپنی طبعی بدبختی کی وجہ سے نہ صرف خلافت کے منکر ہوئے بلکہ حضرت سیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے بھی منکر ہو گئے اور جماعت کے مخالف ہو گئے۔دوسرے فتنہ کا بانی شیخ عبدالرحمن صاحب سابق لالہ شنکر داس) تھا شیخ صاحب 1905 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔خلافت اولی کے دور میں عربی کی تعلیم کے لیے مصر بھجوائے گئے ابھی یہ مصر میں ہی تھے کہ خلافت ثانیہ کا انتخاب ہوا تو انہوں نے خط لکھ کر حضور کی بیعت کی۔1915ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب ”مصری“ بن کر واپس آئے اور اس فتنے کا آغاز ہوا۔حضرت خلیفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو 1915ء میں بذریعہ رویا خبر دی گئی کہ شیخ صاحب کا خیال رکھنا یہ مرتد ہو جائیں گے۔چنانچہ 1915 ء میں ہی جب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری بن کر واپس آئے تو حضور رضی اللہ عنہ نے اپنی اس رؤیا کی بنا پر صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی کہ ان کا خاص خیال رکھا جائے۔اس کا ذکر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک تقریر فرموده 27 دسمبر 1937ء میں فرمایا۔سے بھرے آخر وہی ہوا جس کی خبر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو 1915 ء میں دے دی گئی تھی۔1936ء میں گویا مصری صاحب پر یہ راز کھلا کہ انبیاء اور مشائخ کی وفات کے بعد صرف پہلا خلیفہ ہی خدا کی انتخاب ہوتا ہے باقی منتخب شدہ خلفا آیت استخلاف کے ماتحت نہیں آتے۔چنانچہ اس نظریہ کو بنیاد بنا کر 1937ء میں انہوں نے نہایت ناشائستہ اور سب و ہوئے خطوط حضور رضی اللہ عنہ کو لکھنے شروع کئے جن میں لکھا کہ : یا تو میں جماعت کو آپ کی کیحالت سے آگاہ کر کے آپ کو خلافت سے معزول کرا کر نئے خلیفہ کا انتخاب کراؤں اور یہ راہ پر از خطرات ہے اور یا جماعت میں آپ کے ساتھ مل کر اس طرح رہوں جس طرح میں نے اوپر بیان کیا ہے۔“ مصری صاحب کی نظریاتی اور اخلاقی شکست: ( پمفلٹ ”جماعت کو خطاب“ صفحہ نمبر 2 از شیخ عبدالرحمان مصری) 112