مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 97 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 97

” میں محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں: بہت ہی قلیل مدت کے سوچ بچار کے بعد فوراً خلافت کو چھ آدمیوں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب، حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہما ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی مجلس مشاورت پر منحصر کر دیا۔ان حضرات کی خلافت کے سلسلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول ماثور ہے کہ: میں نے ان لوگوں سے زیادہ کسی کو خلافت کا حقدار نہیں پایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تا حینِ حیات ان سے خوش رہے۔ان میں سے جس کسی کو بھی خلیفہ بنایا جائے وہی میرے بعد خلیفہ ہو گا۔“ اور ان چھ بزرگوں کا نام لینے کے بعد فرمایا: اگر خلافت سعد رضی اللہ عنہ کو ملے تو انہیں دے دی جائے کہ میں نے سعد رضی اللہ عنہ کو کسی کمزوری اور خیانت کی بنا پر معزول نہیں کیا تھا بصورت دیگر جس کو بھی اس خدمت کے لئے انتخاب کیا جائے ،مسلمانوں کو اس کی مدد کرنی چاہئے۔“ تب لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کا علم ہوا تو وہ مطمئن ہو گئے۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا جنہیں خلافت کی مجلس شوری کا کارکن نامزد کیا تھا اور فرمایا: علی ! میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر خلافت تمہیں مل جائے تو بنو ہاشم کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دینا! عثمان! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ ہو جاؤ تو بنو ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دینا! سعد! میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر خلافت کا فیصلہ تمہارے حق میں ہو تو اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردن پر سوار نہ کر دینا اسی طرح دوسرے ارکان شوری کو بھی قسمیں دلائیں پھر کہا: ”جاؤ، مشورہ کر کے فیصلہ کرو، مسلمانوں کو نماز صہیب رضی اللہ عنہ پڑھائیں گے۔پھر ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا جو عرب کے گنے چنے بہادروں میں سے تھے اور ان سے کہا: ”جس گھر میں یہ مشورہ کریں اس کے دردوازے پر کھڑے ہو جانا اور کسی کو گھر میں نہ جانے دینا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو طلحہ ! اپنے قبیلے کے پچاس انصاریوں کو لے کر ارکان شوری کے ساتھ رہنا، میرا خیال ہے کہ یہ کسی رکن کے گھر میں جمع ہوں گے تم اپنے ساتھیوں کو لے کر اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہو جانا اور کسی کو گھر میں نہ جانے دینا! ان لوگوں کو تین دن سے زیادہ مہلت دینے کی ضرورت نہیں۔اس دوران میں انہیں میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لینا چاہیئے! یا اللہ ! میری طرف سے تو ان کا نگران ہے۔“ اپنے (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - صفحہ 744 تا745۔مصنفہ: محمد حسین ہیکل) 3 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حفاظت منصب خلافت: تاریخ الخلفا میں لکھا ہے کہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے عثمان (رضی اللہ عنہ )! خداوند تعالیٰ تمہیں ایک قمیص (خلافت) عنایت فرمائے گا جب منافق اس کو اُتارنے کی کوشش کریں تو 97