مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 81
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ حدیث (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) عَنْ حُذِيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمُ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ : تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن ضبل جلد 4 صفحہ 273 - مقلوة بَابُ الْإِندَارِ وَالتَّحْذِير) حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔استحکام خلافت اور تمکنت دین: حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النور آیت نمبر 56 کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تصنیف سر الخلافۃ میں فرماتے ہیں: ”اس کی تفصیل کے متعلق اے عقلمندو اور اعلی فضیلت والو! جان لو تا کہ تم پر اس کی دلیل واضح ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمان مردوں اور عورتوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور ان میں سے بعض مومنوں کو اپنے فضل اور رحمت سے خلیفہ بنائے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔پس یہ ایک ایسی بات ہے جس کا پورا اور مکمل مصداق ہم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کو پاتے ہیں جیسا کہ اہل تحقیق کے نزدیک یہ امر واضح ہے کہ ان کی خلافت کا زمانہ ایک خوف و مصائب کا زمانہ تھا کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اسلام اور مسلمانوں پر طرح طرح کی مصیبتیں نازل ہوئیں اور بہت سارے منافق مرتد ہو گئے اور مرتدین کی زبانیں دراز ہو گئیں اور جھوٹے دعوے داروں سے ایک گروہ نے نبوت کا دعوی کر دیا اور ان کے گرد بہت سارے بادیہ نشین جمع ہوگئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے ساتھ قریباً ایک لاکھ جاہل اور فاجر لوگ آشامل ہوئے اور فتنوں نے جوش مارا اور مصائب بڑھ گئے اور قسم قسم کی بلاؤں نے دُور و نزدیک سے مسلمانوں کا احاطہ کر لیا اور مومن ایک سخت زلزلہ میں مبتلا کئے گئے اور مسلمانوں میں سے ہر فرد آزمائش میں ڈالا 81