مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 70 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 70

رہے رہے بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے کچھ پرواہ نہیں بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکت اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضروریات نہیں رکھتا تھا کیونکہ انوار رسالت اور کمالاتِ نبوت تازہ بتازہ پھیل تھے اور ہزارہا معجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہو چکے تھے اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تیس برس کے عرصہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کو ہی بڑھا دیتا۔اس حساب سے تمہیں برس کے ختم ہونے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل93 برس کی عمر تک پہنچتے اور یہ اندازہ اس زمانہ کی مقرر عمروں سے نہ کچھ زیادہ اور نہ اس قانونِ قدرت سے کچھ بڑھ کر جو انسانی عمروں کے بارے میں ہماری نظر کے سامنے ہے۔پس یہ حقیر خیال خدا تعالیٰ کی نسبت تجویز کرنا کہ اس کو صرف اس امت کے تیس برس کا ہی فکر تھا اور پھر اس کو ہمیشہ کے لئے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیائے سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ میں وہ دکھلاتا رہا اس امت کے لئے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا۔کیا عقل سلیم خدائے رحیم و کریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی؟ ہر گز نہیں۔اور پھر یہ آیت خلافت ائمہ پر گواہ ناطق ہے۔وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (الانبیاء (106) کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ يَرِثُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جو سب کے بعد ہو۔پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہئے تھا کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا؟ کیا اس نے صرف تیس برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کو لمبا کیا؟ پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سے کہیں زیادہ تھا۔چنانچہ اس نے خود فرمایا وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (سورة النساء : 114) اور ایسا ہی اس امت کے : نسبت فرمايا كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : 111) تو پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تمہیں برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے اور نیز جبکہ یہ امت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کیلئے خالی ہے تو پھر آیت أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے کیا معنے ہیں؟ کوئی بیان تو کرے۔مثل مشہور ہے کہ او خویشتن گم ہے کہ او خویشتن گم است کرا راہبری کند۔جبکہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مد نظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کیلئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے؟ سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو! برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تمہیں برس تک ہو کر پھر زاویہ عدم میں مخفی گئی۔اِتَّقُوا اللَّهَ اتَّقُوا اللَّهَ اتَّقُوا اللَّهَ - اب یاد رہے کہ اگر چہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو اس اُمت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا اُن لوگوں کیلئے کافی ہی جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے ہو 70