مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 406 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 406

صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کے شیریں ثمرات کی ایک جھلک: صد سالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ کی تکمیل تو 23 مارچ 1989ء کو ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے شروع سے ہی اس منصوبہ میں غیر معمولی برکت ڈالی اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی زندگی میں ہی اس شجرہ طیبہ کے شیریں ثمرات جماعت کو عطا ہونے شروع ہوئے۔ذیل میں ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے: 1۔سویڈن کے شہر گوٹن برگ میں مسجد ناصر اور مشن ہاؤس کا سنگ بنیاد 27 ستمبر 1975ء کو بعد تکمیل اس کا افتتاح 20 اگست 1976 ء کو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے خود وہاں تشریف لے جا کر 2۔ناروے کے شہر اوسلو میں مسجد اور مشن ہاؤس کا افتتاح حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے یکم اگست 1980ء کو فرمایا۔3۔سپین میں مسلمانوں کے زوال کے 744 سال بعد جماعت احمدیہ کو یہ سعادت ملی کہ 9اکتوبر 1980ء کو (چودھویں صدی کے اختتام سے پہلے) قرطبہ کے قریب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔-4 مسیح ناصری کے آخری آرام گا والے شہر سری نگر میں شاندار مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر ہوئی۔5۔کینیڈا کے شہر کیلگری میں چالیس ایکڑ زمین جس پر بہت بڑی عمارت بھی ہے مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے خرید لی گئی۔یہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔6۔اٹلی اور جنوبی امریکہ میں مساجد اور مشن ہاؤسز کے لئے ، خدام الاحمدیہ کی طرف سے خدام کے چندہ سے فنڈ کا مہیا کر کے پیش کیا جانا ( نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب کے چندہ ماہ کے بیرونی ممالک کے دور ہ میں یہ رقم جمع ہو گئی۔) 7۔جاپان کے شہر Nagoya میں ایک نہایت خوبصورت نو تعمیر شدہ مکان کی خرید برائے مسجد و احمد یہ سنٹر۔8۔انگلستان میں جماعت کی وسعت کے پیش نظر پانچ مراکز اور ہالوں کی خرید۔جس کے لئے وہاں کے مبلغ انچارج نے 31اکتوبر 1979ء کو چندہ کی تحریک کی اور چند ہی مہینوں میں فنڈز کا انتظام ہو گیا اور بریڈ فورڈ میں 20 اپریل 1980ء، ساؤتھ ہال میں 31 مئی 1980 ء، مانچسٹر میں 16 جون 1980ء، ہڈرز فیلڈ میں 10 جولائی 1980ء اور برمنگھم میں 31اگست 1980ء کو عمارتیں خرید کر قبضہ لے لیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 1980 ء کے دورہ میں ان کا افتتاح فرمایا۔9۔انگلستان کے شہر لندن میں ایک عالمگیر کسر صلیب کانفرنس کا انعقاد جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے خود شمولیت فرمائی۔10۔بڑے وسیع پیمانہ پر اشاعت لٹریچر کا کام شروع ہو چکا ہے انگریزی اور فرنچ میں ترجمہ کے کے ہزاروں صفحات کا اسلامی لٹریچر شائع ہو چکا ہے۔ہیں۔11۔متعدد زبانوں میں اسلام سے متعلق تعارفی فولڈرز شائع ہو کر مختلف ممالک میں آنے والے زائرین میں تقسیم ہو رہے 12۔باہمی رابطہ کے لئے ایک درجن ممالک میں ٹیلیکس Telex کا انتظام ہو چکا ہے۔13۔جماعتی تقاریب کی بولتی فلمیں بنوا کر ان کا تبادلہ شروع ہو گیا 14۔بیرونی ممالک سے آنے والے وفود کی رہائش کے لیے سرائے فضل عمر ، سرائے محبت، سرائے خدمت (خدام الاحمدیہ)، انصار اللہ گیسٹ ہاؤس کی تعمیرات جن میں تمام ماڈرن سہولتیں موجود ہیں۔15۔ایک وسیع تعلیمی سکیم کا اجرا، جس کے ماتحت جماعت کا کوئی Genius نوجوان انشاء اللہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔406