مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 179 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 179

تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروؤں کی وہ جماعت ہے جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منتقل ہوئی اور الہام کے رُو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے : ذَرُونِى اقْتُلَ مُوسَى یعنی مجھ کو چھوڑو تا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کر دوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً میں منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 218) حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت ذَرُونِی اقْتُلَ مُوسی کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو یہ جو ہے آیت فرعون کا یہ کہنا کہ موسیٰ کو قتل کر دوں۔ایسا ہی زمانہ جماعت احمدیہ پر آنے والا تھا جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ آچکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلو والسلام کے ایک الہام میں بڑی وضاحت سے یہ بات مذکور ہے۔ایک تحریر ہے لمبی جس میں پہلے فرماتے ہیں: يَا عَلِيُّ دَعْهُمْ وَأَنْصَارَهُمْ وَزَرَاعَتَهُمْ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علی کہ کر مخاطب فرمایا اور کہا کہ ان کو چھوڑ دے ، ان سے اعراض کر۔وَاَنْصَارَهُمْ ) ان کے مددگاروں سے بھی زَرَاعَتَهُمُ اور جو وہ کھیتی اُگا رہے ہیں یہ تحریر ہے اس کے بعد فرماتے ہیں: ” پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منتقل ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے : ذَرُوانِی أَقْتُلَ مُوسى یعنی مجھ کو چھوڑتا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً ہمیں منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ 66 عَلى ذلِكَ۔دیکھیں پہلے اس سے بیان فرمایا علی والا مضمون اور چھوڑ دے ان کو اللہ تعالیٰ آپ ہی سنبھال لے گا۔اس کے بعد الہام کی طرف طبیعت منتقل ہوئی اور یہ الہام ہوا: ذَرُوانِی أَقْتُلَ مُوسی لیکن علی کے تعلق سے یہ بات واضح کرتی ہے کہ چوتھے خلیفہ کے وقت میں یہ واقعہ ضرور ہونے والا ہے اور بھی شواہد ہیں جو بتا رہے ہیں کہ اسی زمانہ میں ہوگا اور چونکہ ہو چکا ہے اس لئے اس استنباط کو فرضی نہیں قرار دیا جا سکتا۔واقعات کی بعینہ یہی شہادت ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیش گوئیاں: ایک مبشر رویا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ( ترجمۃ القرآن کلاس نمبر 243، 28 اپریل 1998 ء) " میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہی میرا انجام ایسا ہوا جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہوا۔پھر جوش میں آ کر کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ دروازہ کھلا 179