خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 87 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 87

ΛΥ اتحاد جو خدا تعالیٰ خود قائم فرماتا ہے اور اس کا ذریعہ نبوت کے بعد اس کی قائم کردہ خلافت ہے جسے وہ حبل اللہ قرار دیتا ہے۔اس خلافت کا قیام انسان کے بس کا روگ نہیں۔یہ رسی خدا تعالیٰ آسمان سے خود مہیا فرماتا ہے۔چنانچہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ اس پر سند ہے۔اپنے اس وعدہ کے مطابق خدا تعالیٰ نے اس دور میں اپنے پاک مسیح اور مہدی علیہ السلام کے ذریعہ خلافت کا نظام قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کے لئے یکجہتی اور اتحاد کا سامان کیا ہے۔پس روئے زمین پر جماعت احمد یہ ہی ایسی جماعت ہے جس میں خدا کی قائم کردہ خلافت علی منہاج النبوة موجود ہے اور اسی کی برکت سے جماعت کے اندر بھی اتحاد و یکجہتی کی نعمت میتر ہے اور بیرونی طور پر مختلف فرقوں اور مذاہب کے لوگ اس میں شامل ہو کر ایک وحدت کی لڑی میں پروئے جارہے ہیں۔فالحمد لله على ذلک۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: یہ مسئلہ جس حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے وہ وحدت قومی ہے۔کوئی جماعت کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک ایک رنگ کی اس میں وحدت نہ پائی جائے۔مسلمانوں نے قومی لحاظ سے تنزل اس وقت کیا ہے جب ان میں خلافت نہ رہی۔جب خلافت نہ رہی تو وحدت نہ رہی۔اور جب وحدت نہ رہی تو ترقی رک گئی اور تنزل شروع ہو گیا کیونکہ خلافت کے بغیر وحدت نہیں ہوسکتی اور وحدت کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ترقی وحدت کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔وحدت ایک ایسی رہتی ہوتی ہے جو قوم کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور اس قوم کے کمزور بھی طاقتوروں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔“ (درس القرآن فرموده حضرت مصلح موعود ۲ مارچ ۱۹۲۱ء ، درس القرآن صفحہ ۷۲ مطبوعہ نومبر ۱۹۲۱ء بحواله الفضل انٹرنیشنل ۱۳ تا ۱۹ مئی ۲۰۰۵ء)