خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 53
۵۳ وقت آپ کی عمر عین ۲۲ سال تھی۔لہذا حضرت خلیقہ انبیع الاول کا اپنے خطبہ میں حضرت خواجہ سلیمان کی ۲۲ سال کی عمر کا ذکر کرنا ایک واضح اشارہ تھا۔پھر ۷۸ برس تک ان کا خلافت کرنا ، ایک حیرت انگیز اظہار تھا جو سوائے خاص مصلحت الہی اور علیم الہی سے ممکن نہ تھا۔کیونکہ حضرت صاحبزادہ رزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی نے بھی اتنی ہی عمر تک خلافت کی۔آپ کی عمر سمسی لحاظ سے ۶ ۷ سال ۸ مامہ اور ۲۷ دن تھی جبکہ قمری اعتبار سے ۷۸ سال بنتی تھی۔یہ ایسی بات تھی جو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے 1910ء میں کہی مگر آگے جا کر خدا تعالیٰ نے اسے ۱۹۷۵ ء تک حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کو ۷۸ سال عمر دے کر ظاہر اور ثابت فرمائی۔پس یہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ جسے وہ چاہتا ہے اپنا خلیفہ بناتا ہے اور اس نے جس کو خلیفہ قائم کرنا ہوتا ہے، اس کی خوشبو خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے چارسو بکھیر دیتا ہے۔66 خلیفہ خدا تعالیٰ بناتا ہے کی ایک لطیف تمثیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بحث کو ایک لطیف مثال کے ساتھ واضح فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں : لکھا ہے کہ ایک بزرگ جب فوت ہوئے تو انہوں نے کہا کہ جب تم مجھے دفن کر چکو تو وہاں ایک سبز چڑیا آئے گی۔جس کے سر پر وہ چڑیا بیٹھے، وہی میرا خلیفہ ہوگا۔جب وہ اس کو دفن کر چکے تو اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ چڑیا کب آتی ہے اور کس کے سر پر بیٹھتی ہے؟ بڑے بڑے پرانے مرید جو تھے ان کے دل میں خیال گزرا کہ چڑیا ہمارے سر پر بیٹھے گی۔تھوڑی ہی دیر میں ایک چڑیا ظاہر ہوئی اور وہ ایک بقال کے سر پر آ بیٹھی جو اتفاق سے شریک جنازہ ہو گیا تھا۔تب وہ سب حیران ہوئے لیکن اپنے مرشد کے قول کے مطابق اس کو لے گئے اور اس کو اپنے پیر کا خلیفہ بنایا۔“ ( ملفوظات جلد ۸ صفحه ۴۰۷)