خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 401
۳۹۷ ☆☆ خدا تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے تحت آنحضرت میم نے اپنے بعد خلافت راشدہ کے بارہ میں اطلاع دی تھی کہ وہ تمیں سال تک جاری رہے گی۔لیکن جب آخری زمانہ میں مسیح موعود و مہدی معہود کی جماعت میں خلافت را شده ، خلافت علی منہاج النبوة کی پیشگوئی فرمائی تو اس کی کوئی حد بندی فرمانے کی بجائے اسے آئندہ زمانہ کی وسعتوں تک لامحد و در کھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کا ناقابل تسخیر حصار، اسلام کی عظمت، امت کے اتحاد اور اس کی بیجہتی ، ترقی اور آخری غلبہ کا آئینہ دار ہے۔جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں ملاحظہ کیا کہ خلافت راشدہ کی برکات زمان و مکان پر وسیع اور عظیم الشان ہیں۔ابتدائے خلافت آدم سے ہی ہوتا آیا ہے کہ خلافت الہیہ کو زائل کرنے کے لئے طاغوتی تحریکیں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔کبھی خلافت کی مخالف یہ تحریکات براہ راست دشمنوں کی طرف سے سراٹھاتی ہیں اور کبھی خلافت کی اتباع کا دعویٰ کرنے والے بیمار ومنافق طبع لوگ مومنوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔مگر خلافت کا قیام چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ایک خاص تقدیر کے تحت عمل میں آتا ہے۔اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خلافت کے مقابل پر ہر قسم کی تحریک نا کامی کا منہ دیکھتی ہے۔وہ عظیم وجود جسے تاج خلافت عطا ہوتا ہے ، طاغوتی طاقتوں کے بالمقابل نا قابل تسخیر ، تقویٰ کے اعلیٰ ترین مقام پر فائزہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بے نظیر اور اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں اولوالعزم ہوتا ہے۔اس لئے وہ خُدا تعالیٰ کا پسندیدہ وجود ہوتا ہے۔اس کے ساتھ اس کی جماعت ایمان اور عملِ صالحہ کے اس معیار پر قائم ہوتی ہے جس پر خلافت کے حق میں خدا تعالیٰ کے جملہ وعدے پورے ہوتے ہیں۔لہذا ہر قسم کے دشمن کا ہر حربہ، ہر مخالفانہ تحریک اور ہر منافقانہ وسوسہ جو مقام خلافت کو زائل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا