خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 173
۱۷۰ ایک رنگ میں اس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔“ الفضل یکم فروری ۱۹۴۴) پس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشابہ اور مثیل ہونے کی وجہ سے آپ کے بروز کی حیثیت رکھتے تھے۔اس حقیقت کو حضرت خلیفہ اسیح الا ول بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: " حضرت خلیفہ امسیح الاول فر مایا کرتے تھے کہ میرا زمانہ اس لئے حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے کہ دوبارہ بعثت مسیحی میں ابھی کچھ وقفہ ہے۔اس لئے میں اس وقفہ کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔جب وہ ہوگی تو خلیج پاٹ کر ایک ہی زمانہ پھر شروع ہو جائے گا۔پس در حقیقت حضرت مسیح موعود کا زمانہ ممتد ہے میرے زمانے تک جب تک میں ہوں اسوقت تک حضرت مسیح موعود ہی کا زمانہ ہے۔غرض تمام پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے اور میں ان کا بروز اور ان کا نام پانے والا ہوں۔“ حضرت ا مصلح الموعود کی زندگی کے بعض خاص واقعات آمین الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۶۱ء) ۷ جون ۱۸۹۷ ء اس موقع پر سیدنا حضرت مسیح موعود نے نظم ” محمود کی آمین،،لکھی ۱۸۹۸ء مدرسہ تعلیم الاسلام میں اکتوبر ۱۹۰۲ء میں سیدہ محمودہ بیگم ام ناصر صاحبہ سے ہوا۔داخله مدرسه مجلس تشخیذ الا ذہان ۱۹۰۰ء میں بنیا د رکھی نکاح اوّل نکاح ثانی ۷ فروری ۱۹۲۱ ء سیدہ ام طاہر صاحبہ سے ہوا اکتوبر ۱۹۰۳ ء میں رخصتا نہ ہوا