خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 402
۳۹۸ ہے تار عنکبوت ثابت ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدہ و تقدیر اور آنحضرت سلم کے فرمان کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہوا تو مسیح موعود علیہ السلام کی تمام جماعت بالا تفاق حضرت حاجی الحرمین شریفین حکیم مولوی نور الدین کے ہاتھ پر جمع ہوئی اور اس نے آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر آپ کو خدا تعالیٰ کے پاک مسیح و مہدی کا خلیفہ اور اپنا آقا ومطاع تسلیم کیا۔اپنی پرانی سنت پر چلتے ہوئے طاغوتی طاقتیں یہاں بھی متحرک ہوئیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر مخالفین احمدیت تو جماعت کی تباہی کے خواب دیکھ رہے تھے اس لئے طبعا خلافت کا قیام ان کے لئے سخت تکلیف دہ امر تھا۔مگر کچھ دیر کے بعد بظاہر اتباع خلافت کے دعویدار بعض منافق طبع لوگوں نے بھی سر اٹھایا۔انہوں نے خلافت راشدہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رسالہ الوصیت، شہادۃ القرآن اور دیگر کتب و ملفوظات میں بیان شده عرفانِ خلافت کو پس پشت ڈال کر خلافت کی برکات، فیوض اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور نتیجہ انہوں نے خلیفہ وقت کی ذات اور اُس کے اختیارات کے بارہ میں بحثیں شروع کر دیں اور خلافت کو بے حیثیت ثابت کرنے بلکہ زائل کرنے کے لئے با قاعدہ پروگرام مرتب کئے اور آہستہ آہستہ وہ لوگ ایک معلم پہنے کی صورت میں منصہ شہود پر رونما ہوئے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے دور میں جو انکارِ خلافت کا فتنہ اُٹھا اس کے نقوش کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی دنیا میں رونما ہونے والا یہ کوئی نیا اور الگ فتنہ نہیں تھا۔بلکہ الہی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچہ کو کمزور کرنے اور ان کی مرکزیت کو پراگندہ کرنے کے لئے ہمیشہ مذہبی دنیا میں اسی شکل وصورت کے فتنے برپا ہوتے رہے ہیں اور ممکن ہے کسی قدر آئندہ بھی برپا ہوتے رہیں۔ذیل میں شق وار اس کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے : حمید نوٹ : درج ذیل اکثر و سادس و اعتراض اور ان کے جواب بنیادی طور پر حضرت خلیفہ مسیح الرابی کی تصنیف سوانح فضل عمر جلد اول سے ماخوذ ہیں۔گو بعض جگہ حسب ضرورت اور حالات زمانہ تبدیلی اور کمی بیشی کی گئی ہے۔