خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 307
طاعت در معروف رسول اللہ مریم کی بیعت کی ایک شرط "۔۔۔لَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ (المتحہ:۱۳) وہ معروف امور میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ایک شرط یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا۔۔۔66 خلافت کے ساتھ عہد 66 " خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے ، اس کی یا بندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔“ ☆{☆}☆ ” معروف“ اور ” غیر معروف“ کی بحث خلیفہ وقت کے احکام، فیصلوں یا ارشادات پر ایک بحث یہ اٹھائی جاتی ہے کہ وہ معروف ہیں یا غیر معروف ہیں۔ایسی بحث اٹھانے والے اس کی آڑ میں اپنے ایمان کی دیوار میں نافرمانی اور عدم اطاعت کی دراڑ دیکھ کر اس میں سے ایسی حالت میں نکل رہے ہوتے ہیں کہ عین اسی وقت اپنے آپ کو نظام خلافت کا حصہ بھی شمار کر رہے ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بحث و مشخص نہیں کرتا جو بیعت کی روح سمجھتا ہے اور خلیفہ کی بیعت کرتے وقت اس کے ہاتھ میں اپنے پک جانے کی حقیقت جانتا ہے۔یہ بھی ظاہر ہے کہ ایک احمدی صرف خلافت کی بیعت کے وقت ہی معروف فیصلوں کی