خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 196 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 196

١٩٣ و تربیت کی، ایک بیت المال کی ، ایک ضیافت کی ، ایک بہشتی مقبرہ کی، ایک امور خارجہ کی اور ایک امور عامہ کی وغیرہ ذالک۔اس جداگانہ نظام نے کئی سال تک علیحدہ صورت میں کام کیا اور جب اس نظام کا اچھی طرح تجربہ ہو گیا تو اکتوبر ۱۹۲۵ء میں آکر صدر انجمن احمد یہ کا نام اور اس کی اصولی صورت قائم رہی مگر صیغہ جات کی تقسیم اور ناظروں کی ذمہ دارانہ پوزیشن جدید نظام کے مطابق قائم ہوگئی اور اب یہی مخلوط صورت جماعت کا مرکزی نظام ہے۔مجلس مشاورت کا قیام حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جہاں صدر انجمن احمدیہ کے انتظام میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کیا وہاں آپ کو اس ضرورت کا بھی احساس پیدا ہوا کہ ملتی امور میں جماعت سے مشورہ لینے کے لئے کوئی زیادہ پختہ اور زیادہ منظم صورت ہونی چاہئے۔اب تک یہ کام اس طرح پر تھا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جبکہ دسمبر کے آخری ہفتہ میں ملک کے مختلف معنوں سے قادیان میں احمدی جمع ہوتے تھے تو اس وقت ضروری امور میں تبادلہ خیالات کر لیا جاتا تھا۔مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ تمام مقامی جماعتوں کو جماعتی امور کے مشورہ میں زیادہ منسلک کرنے کے لئے کوئی بہتر اور زیادہ با قاعدہ انتظام ہونا چاہئے۔چنانچہ ۱۹۲۲ء سے آپ نے ایک مجلس مشاورت کی بنیاد قائم کی اور سال بھر میں اس کا کم سے کم ایک اجلاس ضروری قرار دیا اور تمام مقامی جماعتوں سے تحریک کی کہ وہ اس مجلس میں اپنے نمائندے بھجوایا کریں تا کہ ضروری امور میں مشورہ ہو سکے۔یہ مجلس عموما ماہ مارچ یا اپریل میں منعقد ہوتی ہے جس میں جماعتوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ی نمائندے جو مشورے خلیفہ وقت کو دیتے ہیں وہ خلیفہ وقت کے لئے واجب العمل نہیں ہوتے بلکہ صرف مشورہ کا رنگ رکھتے ہیں۔اس سے تین بڑے فائدے مرتب ہوتے ہیں۔اول یہ کہ حضرت خلیفہ امسیح کو جماعت کے خیال اور رائے کا علم ہوجاتا ہے اور چونکہ بالعموم یہ مشورہ قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر قبول نہ بھی کیا جائے تو پھر بھی مشاورت میں حضرت خلیفتہ المسیح کی آخری رائے مشورہ سننے کے بعد قائم ہوتی ہے۔اس لئے لازما جماعت کے تمام اہم امور میں جماعت کی رائے کا