خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 195 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 195

۱۹۲ نظارتوں کا قیام حضرت خلیفہ اسیح الثانی صدر انجمن احمد یہ کے نظام کے اس تفصیلی حصہ میں جو حضرت مسیح موعود کا فیصلہ کر وہ نہیں تھا بلکہ خود انجمن کا قائم کردہ تھا بعض نقائص کو دیکھ کر اس کی اصلاح کے سوال پر غور فرمارہے تھے۔اس نظام میں سب سے بڑی کمزوری آپ کو یہ نظر آتی تھی کہ اس کے اندر مرکزیت کا اصول بہت زیادہ غلبہ پائے ہوئے ہے اور مختلف صیغہ جات ایک ہی سیکرٹری کے ماتحت اس طرح جمع ہیں کہ ان صیغوں کے افسروں کو کوئی ذمہ دارانہ پوزیشن حاصل نہیں رہتی۔حتی کہ صدر انجمن احمد یہ کے مشوروں میں بھی ان افسروں کی آواز کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے جملہ انتظامی فیصلہ جات خالصتہ ایسے ممبروں کی رائے سے تصفیہ پاتے ہیں جن کے ہاتھ میں کسی انتظامی صیغہ کی باگ ڈور نہیں۔آپ نے اس نقص کو دیکھ کر اس کی اصلاح کی تجویز فرمائی مگر دوسری طرف آپ اس بات کو بھی محسوس کر رہے تھے کہ ممکن ہے کہ ایک قائم شدہ نظام کو یکلخت بدل دینے میں کوئی دوسری قسم کے نقصانات نہ پیدا ہونے لگیں۔پس آپ نے اس کے لئے یہ طریق اختیار فرمایا کہ صدر انجمن احمدیہ کے نظام کو قائم رکھتے ہوئے اس کے پہلو میں ایک دوسرا متوازی نظام جاری فرما دیا جس میں ہر شخص ایک مستقل صیغہ کا انچارج تھا اور پھر یہ سب انچارج با ہم مل کر ایک انتظامی انجمن بناتے تھے۔ان افسران کا نام آپ نے ناظر، تجویز فرمایا اور ان کی انجمن کا نام ”مجلس نظارت رکھا۔اور مختلف ناظروں کے اوپر آپ نے ایک صدر ناظر مقرر کیا جس کا نام ” ناظرِ اعلیٰ رکھا گیا۔جس کا کام مختلف نظارتوں میں اتحاد عمل قائم رکھنا اور ان کے اختلافی امور کا فیصلہ کرنا اور مجلس نظارت کے اجلاسوں میں صدارت کے فرائض بجالانا تھا۔گویا اس طرح مرکز سلسلہ میں دو مختلف نظام قائم ہو گئے۔ایک وہی پرانا صدر انجمن احمدیہ کا نظام اور دوسرے مجلس نظارت کا جدید نظام۔ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ کی صورت نہیں تھی کیونکہ صدر انجمن احمدیہ کا کام صدر انجمن کے ہاتھ میں رہا اور نیا کام خلافت ثانیہ میں جاری ہوا تھا وہ نظارت کے انتظام میں رکھ دیا گیا۔اس موقع پر آپ نے مختلف قسم کے کاموں کو بھی ایک اصولی تقسیم کے مطابق منقسم فرمایا۔چنانچہ ایک نظارت دعوت وتبلیغ کی قائم کی گئی ، ایک تعلیم