خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 102 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 102

1+1 (۱۳) نزول و تائید ملائکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اتر نا اسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔“ (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲ حاشیه ) موت کی جانشینی میں منصب خلافت جامع جملہ برکات الہیہ ہے۔جو شخص خلافت سے وابستہ ہو جاتا ہے ملائکۃ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔وہ سوتا ہے تو فرشتے اس کے لئے جاگتے ہیں۔وہ دشمن سے بے خبر ہوتا ہے تو فرشتے اس کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے ہیں۔کوئی مومن اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت ابو بکر نے جب حضرت اسامہ والے لشکر کو روانہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ کی حفاظت کے لئے فرشتے مقرر فرما دیے تھے جو اسلام کی حفاظت کے ذمہ دار ہو گئے تھے گویا وعدہ البى أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ منزلين (ال عمران : ۱۲۴) وہاں بھی پورا ہورہا تھا کہ تمہارا رب آسمان سے اترنے والے تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا“۔اس آیت میں گورسول اللہ علم کے زمانہ کی ایک جنگ میں نزول ملائکہ کا ذکر ہے لیکن جو حالات اس وقت مدینہ کے تھے وہ حالتِ جنگ سے چنداں مختلف نہ تھے۔خلیفہ راشد چونکہ رسول کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اس لئے رسول کے ظلت میں خلیفہ راشد سے بھی ویسی ہی تائید ملائکہ وابستہ ہے جیسی رسول سے ہوتی ہے۔جیسا کہ آیتِ کریمہ إِنَّا لَنَنْصُرُ