خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 86 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 86

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ۸۵ "وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ البينت (ال عمران آیت : ۱۰۶) کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو گھلے گھلے نشانات آچکنے کے بعد پراگندہ ہو گئے اور انہوں نے باہم اختلاف پیدا کر لیا۔اس آیت میں بیان کردہ مثال بتاتی ہے کہ پہلی قو میں بھی اس آیت سے پہلے مذکورہ حبل اللہ کو چھوڑنے کے باعث اختلاف و انتشار کا شکار ہوکر دینی اور روحانی لحاظ سے ہی نہیں تمدنی اور قومی لحاظ سے بھی زوال پذیر ہوئیں۔اسی طرح امتِ مسلمہ نے بھی اس منیبہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو فرقہ بندی اور تشتت و انتشار کا شکار ہوگئی۔اس زیاں بار حقیقت کو ہر دور کا مسلمان محسوس کرتا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف خطہائے ارض پر مختلف اوقات میں خلافت کے احیاء کے لئے بار بار تحریکیں اٹھتی رہی ہیں۔حتی کہ سعودی عرب میں بھی نظام خلافت کے قیام کی سکیمیں تیار ہوئیں۔چنانچہ فیصل آباد پاکستان سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ” وفاق‘‘ نے لکھا: سعودی عرب کے بعض حلقے جو دوبارہ خلافت کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنے اقدام کے جواز میں کہہ رہے ہیں کہ خلافت کا منصب ہی واحد منصب ہے جو دنیائے اسلام کو متحد کرانے کا باعث ہو سکتا ہے اور زمانہ ماضی میں اسی منصب نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد کے رشتے میں پرو دیا تھا۔(وفاق ۲۱ اکتوبر ۱۹۶۰ء) یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ باوجود تمام تر وسائل کی مالک ہونے کے سعودی حکومت کیوں خلافت قائم نہیں کر سکی ؟ اس کا سادہ سا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ وہ خلافت جو اتحاد قائم کرتی ہے انسان کے ہاتھ سے ہر گز قائم نہیں ہوسکتی؟ بلکہ وہ فرماتا ہے: لَوْ أَنْفَقْتَ مَا الْأَرْضِ جَمِيْعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ (انفال: ٢٣) وه