خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 84
۸۳ دل میں ایک دوسرے کے لئے الفت کے پھول نہیں اُگا سکتے۔آیتِ کریمہ "لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ (الانفال: ۶۴) ( تو خواہ روئے زمین کی ہر چیز خرچ کر ڈالے پھر بھی ان کے دلوں میں محبت پیدا نہیں کر سکتا ) اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے۔حضرت ابوبکر نے بھی اپنی خلافت کے قیام کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تم میں اس لئے خلافت قائم کی ہے کہ تم آپس میں رشتہ محبت والفت میں منسلک رہو۔پھر حضرت عثمان کے زمانہ میں جب خلافت کے خلاف فتنہ پردازیاں شروع ہوئیں اور منافق آپ کے قتل کے درپے ہوئے تو آپ نے فرمایا: اگر تم مجھے قتل کرو گے تو بخدا میرے بعد تم میں اتحاد قائم نہیں ہوگا اور کبھی متحد اور مجتمع ہو کر نماز نہیں پڑھ سکو گے اور نہ میرے بعد تم کبھی متحد ہوکر دشمن سے جنگ کر سکو گے۔تاریخ الطبرى ذكر الخبر عن قتل عثمان ۳۵ھ) لیکن اس تنبیہہ کے باوجود آخر کار حضرت عثمان شہید کر دئیے گئے تو وہی ہوا جس کی نشاندہی آپ نے فرمائی تھی۔یعنی ان پر خلافت کے ذریعہ تانی گئی ردائے الفت و محبت سرکنے لگی تو نعمت اتفاق و اتحاد بھی اٹھنے لگی اور پھر مساجد سے لے کر میدانِ جنگ تک صفیں جُد اجد ا ہونی شروع ہو گئیں۔پھر بعد ازاں جب حضرت علیؓ کے زمانہ میں خلافت کی ناقدری شروع ہوئی تو نیچہ ایک طرف آپ کے مفرط حسین کے مستقل گروہ پیدا ہوئے اور دوسری طرف غالی مبغضین اور پھر ان کے در میان بغض و عناد کی خلیج وسیع تر ہوتی گئی۔چنانچہ پھر جو مصائب اسلام پر جنگ جمل ، جنگ صفین ، جنگ بصرہ، جنگ ذاب، جنگ مکہ ، جنگ کر بلا وغیرہ کی صورت میں نازل ہوئے ، ان کی دکھ بھری داستانیں اوراق تاریخ میں آج بھی خونتا بہ بار ہیں۔جن کے مطالعہ سے مسلمان ادھر آنکھیں اُدھر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔اور ہر مسلمان اس کا گواہ ہے کہ یہ مصائب دامنِ خلافت کی بے حرمتی کی ہرم وجہ سے مسلمانوں پر ٹوٹے کیونکہ ثبوت کے بعد خلافت ہی امت میں اتحاد و یکجہتی کے قیام کا واحد