خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 83
۸۲ والے خلفاء کو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم بھی حو صلے رکھنا اور میری طرح ہمت وصبر کے مظاہرے کرنا اور دنیا کی کسی طاقت سے خوف نہیں کھانا۔وہ خدا جو ادنی مخالفتوں کو مٹانے والا خدا ہے وہ آئندہ آنے والی زیادہ قوی مخالفتوں کو بھی چکنا چور کر کے رکھ دے گا اور دنیا سے ان کے نشان مٹا دے گا۔جماعت احمدیہ نے بہر حال فتح کے بعد ایک اور فتح کی منزل میں داخل ہونا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس تقدیر کو بہر حال بدل نہیں سکتی“۔خطاب حضرت خلیفہ امسح الرابع فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۸۴ء بر موقع پہلا یورپین اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ ) پس نظامِ خلافت کی بنیاد میں ایک طرف ایمان کی مستحکم چٹان پر قائم ہیں اور دوسری طرف اس کی فصیلیں عرشِ رب العالمین کو چھو رہی ہیں۔ان حدود میں خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اس کی حفظ و امان کے جلوے ہر وقت جماعت کے لئے امن وسلامتی اور استحکام و ترقی کا موجب ہیں۔(^) کجہتی و اتحاد آیت کریمہ "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (ال عمران: ۱۰۴) میں : خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سب خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ پیدا نہ کرو۔اور فرماتا ہے إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ، ایک وہ وقت تھا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو نبوت کے ذریعہ تمہیں ایسی محبت دی کہ تم بھائی بھائی بن گئے۔مگر اب نبوت کے جانے کے بعد پھر بکھر نہ جانا۔تم خدا کی رستی مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں اتحاد اور اتفاق کو اسی طرح قائم رکھو جس طرح نبی کے وقت میں تھا۔اور اتحاد اور اتفاق قائم رکھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ تم خدا کی رسی کو جو خلافت کی صورت میں تمہیں عطا کی گئی ہے مضبوطی سے تھامے رکھو۔نبوت کی جانشینی میں خلافت ہی وہ حبل اللہ ہے کہ جس کے ذریعہ اور جس کی برکت سے تم آپس میں محبت والفت کا نا تا برقرار رکھ سکتے ہو۔اس کے بغیر خواہ تم اپنا سرمایہ ہستی خرچ کر ڈالو، خواہ تم کر ہ ارض کی ہر چیز کے دام لگا لو مگر تم صحن