خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 52
۵۲ جس تقدیر کوکھولا تھا وہ بالآخر اسی طرح نافذ ہو کر رہی۔اسی طریق پر اللہ تعالیٰ اپنے ہونے والے دیگر خلفاء کے بارہ میں پہلے سے ہی لوگوں کو کئی طریق سے آگاہ کر دیتا ہے۔اس دور میں جماعتِ احمدیہ نے خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ایسے کئی جلوے دیکھے ہیں کہ آئندہ ہونے والے خلیفہ کے بارہ میں اس نے کئی لوگوں کو رو یا وکشوف کے ذریعہ مطلع فرمایا۔اس کی ایک غیر معمولی مثال یہ بھی ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے اپنے بعد قائم ہونے والے خلیفہ کا گو اپنی زندگی کے آخری دور میں نام بھی تحریر کر دیا تھا مگر ایک عرصہ پہلے ایک عجیب طرز پر نشاندہی بھی فرمائی تھی۔جس کو لازماً اس دور کے اصحاب بصیرت تو واضح طور پر سمجھ گئے تھے مگر جن کے لئے ابتلاء مقدر تھا وہ اپنے ابتلا میں سرگرداں رہے اور اس ” خاص مصلحت اور خالص بھلائی“ سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔وہ واقعہ اس طرح سے ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے ۱۴ جنوری ۱۹۱۰ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں تصوف کے مضمون کو بیان فرمایا۔اس کے بالکل آخر میں حسب ذیل بات کہہ کے خطبہ ختم فرما دیا کہ ایک نکتہ قابل یاد سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش کے رُک نہیں سکا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا ہے۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی۔۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یا درکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔“ (خطبات نور صفحه ۴۵۳ مطبوعه نظارت اشاعت قادیان ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اس میں ” خاص مصلحت اور خالص بھلائی کیا تھی؟ غور فرمائیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد گو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا اور خلیفتہ المسیح الاول کو آپ سے محبت بھی بہت تھی۔آپ کی ولادت با سعادت ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی۔جنوری ۱۹۱۰ ء میں اس خطبہ کے