خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 46 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 46

۴۶ خاص تقدیر کے کسی اور کا کام نہیں ہے۔صفات کا یہ مجموعی توازن اس کے اندر وہ خاصیت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت خدا تعالیٰ کی صفات کے قریب ترین وجود ہو جاتا ہے۔پس وہی ہے جو بہت کے بعد خدا تعالیٰ کی جملہ صفات کا سب سے زیادہ مظہر قرار پاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی نظر انتخاب اس کو چن لیتی ہے لہذا اسکا انتخاب خدائی انتخاب قرار پاتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: " جب کسی کو خدا خلیفہ بناتا ہے تو اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔اگر وہ اسے اپنی صفات نہیں بخشتا تو خدا تعالیٰ کے خلیفہ بنانے کے معنی ہی کیا ہیں۔( الفرقان ، صفحہ ۳۷ مئی، جون ۱۹۶۷ء) جہانتک صفاتِ حسنہ کے اجتماع اور ان میں توازن کی خصوصیت کا تعلق ہے، حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں: دو جو خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اس نے گل خیالات کو جمع کرنا ہے۔اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے۔ممکن ہے کسی ایک بات میں دوسرا شخص اس سے بڑھ کر ہو۔ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کے لئے صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ پڑھا تا اچھا ہے کہ نہیں یا اعلی ڈگری پاس ہے یا نہیں ممکن ہے کہ اس کے ماتحت اس سے بھی اعلیٰ ڈگری یافتہ ہوں۔اس نے انتظام کرنا ہے، افسروں سے معاملہ کرنا ہے، ماتحتوں سے سلوک کرنا ہے، یہ سب باتیں اس میں دیکھی جاویں گی۔اسی طرح سے خدا کی طرف سے جو خلیفہ ہو گا اس کی مجموعی حیثیت کو دیکھا جاوے گا۔خالد بن ولید جیسی تلوار کس نے چلائی ؟ مگر خلیفہ ابوبکر ہوئے۔آج اگر کوئی کہتا ہے کہ یورپ میں میری قلم کی دھاک بچی ہوئی ہے تو وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خلیفہ وہی ہے