خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 442 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 442

۴۳۸ وو ہماری ذمہ داریاں منتخب خلیفہ اپنے انتخاب کے وقت لوگوں کی بیعت سے قبل یہ قسم کھاتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافتِ احمد یہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافتِ احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا 66 جب اللہ تعالی اسے قائم فرماتا ہے تو گو یہ عہد بظاہر خلفۃ المسیح دو براتا ہے لیکن دراصل اس عہد کا ہر پہلو ہر احمدی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔وہ اپنی بیعت کے ساتھ خلافت کے وجود کا جزء بنتا ہے۔لہذا اس پر یہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو اس عہد میں بھی مذکور ہیں۔نیز خلیفہ وقت کی طرف سے جو بھی منصوبہ یا ہدایت، تحریک یا نصیحت تعلیم یا وصیت جاری ہو اس پر عمل کرنا اس کی بیعت کے اولین تقاضوں میں سے ہے اور اس کی زندگی کی اہم ترین ترجیحات میں سے ہے۔خلافت حقہ سے وابستہ جماعت مومنین کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورۃ النور کی آیات ۵۶،۵۵ پیش فرما کر جماعت کو توجہ دلاتے ہیں کہ