خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 410
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ حق، حقدار کو نہیں بلکہ کمتر شخص کو دیدیا گیا ہے: خلیفہ وقت پر عائد کیا جانے والا یہ اعتراض بھی ہزاروں سال پرانا وہ اعتراض ہے جو منکرین ثبوت انبیائے وقت پر کرتے رہے ہیں اور منکرین خلافت ،خلفائے وقت پر۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ اسی 1 قول پر بھی اور بعد میں آنے والے خلفاء پر بھی کیا گیا اور خدا جانے کب تک کیا جاتا رہے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے اس کا جواب یہ دیا کہ وو یہ اعتراض کہ خلافت حقدار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے تو بہ کر لو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت کر وفرمانبرداری اختیار کرو۔ابلیس نہ بنو۔“ ( بدر ۴ جولائی ۱۹۱۲ء) دراصل شیطان مؤمنین کی جماعت پر مختلف اطراف سے مختلف بھیس بدل کر حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔کہیں وہ ان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی مذہبی قیادت کے خلاف عدمِ اعتماد پیدا کرنے کی کبھی وہ پھپھا کٹنی کا رُوپ دھار لیتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ امام وقت سے بڑھ کر کوئی اور تمہارا ہمدرد اور بہی خواہ موجود ہے۔کبھی وہ ظاہری علم کی قبا اوڑھ کر آتا ہے اور یہ وسوسہ پھیلاتا ہے کہ تمہارے امام کا علم خام ہے جبکہ اس کی نسبت بہت بڑے بڑے عالم تم میں موجود ہیں۔کبھی وہ ایک جُبہ پوش عابد و زاہد بن کر اُن کو ورغلاتا ہے کہ تمہارے امام سے کہیں بڑھ کر خدا کا پیارا تم میں موجود ہے۔پس جو کچھ مانگنا ہے، اس کی معرفت مانگو۔حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی کا جماعت احمدیہ پر ایک عظیم احسان ہے کہ آپ نے اس قسم کے فتنہ پردازوں کے اطوار و عادات کو بار بارایسی وضاحت کے ساتھ کھول کر جماعت کے سامنے رکھ دیا ہے کہ اب جب بھی جس بھیس میں بھی فتنہ پرداز حملہ آور ہوتے ہیں ، جماعت کی بھاری