خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 362 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 362

۳۵۸ ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر یک خوف کی حالت میں جب محبت الہیہ دلوں سے اٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ رو بدنیا ہو جائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہو تو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا روحانی خلیفوں کو پیدا کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ پر روحانی طور پر نصرت اور فتح دین کی ظاہر ہو اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہو، تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے۔اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہوا جانے کے اندیشہ سے امن کی حالت میں آجائیں۔“ ( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۰،۲۵۹ حاشیہ نمبر۱۱) مجد دوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے طور سے ضرورت ہے جیسے کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۰) ان اقتباسات سے ان کے حسب ذیل استدلالات ہیں جو اُن کے فتنہ کی بنیاد ہیں۔اس بات پر اتفاق ہے کہ سلسلہ احمدیہ کی خلافت قیامت تک رہے گی۔مگر اس میں دونوں قسم کی خلافت شامل ہے۔( یعنی ظاہری اور باطنی ) وقتاً فوقتاً دونوں اقسام کے خلفاء کی تابعداری مومنین پر لازم ہے۔روحانی خلیفہ چونکہ منہاج نبوت پر نازل ہوتا ہے اور مرسل کے پیرائے میں آتا ہے۔اس لئے اس کو شناخت کرنا اور اس پر ایمان لانا ہر مومن پر فرض ہے اور اس ظاہری خلیفہ پر بھی فرض ہے جس کی زندگی میں وہ نازل ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے روحانی خلیفہ یعنی خلیفہ اللہ کا تقرر بلا شرکت غیر درج ذیل اصول قرآنی یعنی ” يُلْقِي الرُّوْحَ عَلَى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (سورۃ المؤمن :۱۲) کرتا ہے۔وہ پابند نہیں کہ کسی ظاہری خلیفہ کو ضرور روحانی خلافت بھی عطا کر دے۔ہاں کبھی کبھار ظاہری خلفاء اور بادشاہوں کو روحانی خلافت بھی عطا کر دیتا ہے جیسے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے معاملے میں ہوا۔نیز حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بھی۔