خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 361
۳۵۷ بعض فتنہ پردازوں نے ایک وسوسہ یہ بھی چھوڑا ہے کہ خلافت احمد یہ میں ایک وقت میں دو خلافتیں قائم ہوتی ہیں۔ایک روحانی اور دوسری ظاہری۔ان دونوں خلافتوں پر کبھی ایک ہی وجود فائز ہوتا ہے تو کبھی دو الگ الگ وجود ہوتے ہیں جن میں اسے ایک ظاہری خلیفہ ہوتا ہے جس کو جماعت منتخب کرتی ہے اور دوسرا روحانی خلیفہ ہوتا ہے جسے خدا براہِ راست بھیجتا ہے یا مامور کرتا ہے۔ایسی سوچ والے اپنے دعوئی کی تائید میں اور اپنے مدعا کے ثبوت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حسب ذیل دو اقتباس پیش کرتے ہیں۔خدا نے تم سے بعض نیکو کارایمانداروں کے لئے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسول مقبول کے خلیفے کرے گا۔ان ہی کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے اور ان کے دین کو کہ جو اُن کے لئے پسند کر لیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جما دے گا اور مستحکم اور قائم کر دے گا اور بعد اس کے کہ ایماندار خوف کی حالت میں ہوں گے۔یعنی بعد اُس وقت کے کہ بباعث وفات حضرت خاتم الانبیاء کے یہ خوف دامنگیر ہوگا کہ شاید اب دین تباہ نہ ہو جائے تو اس خوف اور اندیشہ کی حالت میں خدائے تعالیٰ خلافت حقہ کو قائم کر کے مسلمانوں کو اندیشہ ابتری دین سے بے غم اور امن کی حالت میں کر دے گا۔وہ خالصاً میری پرستش کریں گے اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الہیہ جاری ہے کہ اس کے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور پر ان آیات میں خلافت روحانی کی طرف بھی اشارہ