خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 355 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 355

۳۵۱ مذکورہ بالا آیت کریمہ میں اسی بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ مرتد ہونے والوں کے بدلہ میں جو لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے وہ محبت الہی میں سرشار ہوں گے۔اسی طرح دیگر اسلامی صفات سے متصف ہوتے چلے جائیں گے۔ارتداد کی وجوہات : ارتداد کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ جو ہمیشہ ہی مذاہب میں نظر آتی ہے یہ ہے کہ بعض لوگ یا گروہ یا قبائل وغیرہ نبوت کو ایک دنیوی سیاست کی طرز کا اقتدار سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور اپنے کسی نہ کسی فائدہ یا منفعت کو مد نظر رکھ کر اس میں داخل ہوتے ہیں۔پھر انہیں جب وہ مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آتا یا طبیعت کے برخلاف عبادت کرنی پڑتی ہے اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے دیگر قربانیوں کا مطالبہ ہوتا ہے تو وہ اس مذہب کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔اسلام میں سے خارج ہونے والوں میں بعض لوگ ایسے بھی تھے۔چنانچہ عبد العزی بن خطل اور ہبار بن اسود وغیرہ اسی طرز کے لوگ تھے۔بعض نبوت کو ایک بادشاہت کے تسلط کی طرح خیال کر کے اس کے تحت آتے ہیں اور تسلط کا وہ معیار یا اقتدار کی وہ طرز جو اُن کے ذہنوں میں ہوتی ہے، اسے اس الہی جماعت میں مفقود پا کر وہ بھی اس سے کٹ جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت مریم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے کئی سرداروں اور قبائلی لیڈروں نے کچھ ایسا ہی سمجھا تھا کہ اسلام ایک سیاسی طاقت ہے جس کے ساتھ ملنا ان کے قبائلی تحفظ کے لئے ضروری ہے۔انفرادی طور پر عیینہ بن حصن الفزاری وغیرہ ایسے ہی لوگ تھے اور اجتماعی طور پر مسیلمہ، اسود عنسی ، طلیحہ ، سجاح اور یمن و بحرین وغیرہ کے لیڈر اور ان کی جماعتوں نے ایسے نمونے پیش کئے تھے۔اس بحث سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام پر قائم رہنے یا اس سے نکل جانے کے دو پہلو تھے۔ایک پہلو سیاسی تھا اور دوسرا اعتقادی یا دینی۔سیاسی پہلوکومد نظر رکھ کر جو لوگ یا قبائل اسلام کے سایہ تلے آئے انہوں نے آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد خیال کیا کہ اب اسلام ختم ہو جائے گا۔اس لئے وہ مدینہ کے زیر تسلط رہنے سے روگردان ہو گئے بلکہ بغاوتوں پر اتر آئے۔اس کے نتیجہ