خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 354
فرماتا ہے: د, يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ لا أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لائِمٍ ، ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُثْ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ ط وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائدہ:۵۵) ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے تو ضرور اللہ (اس کے بدلے ایک ایسی قوم لے آئے گا جس سے وہ محبت کرتا ہو اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں۔مومنوں پر وہ بہت مہربان ہوں گے (اور ) کافروں پر بہت سخت۔وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ رکھتے ہوں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ اس کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس میں امتِ مسلمہ کے لئے پیشگوئی تھی کہ لوگ اسلام قبول کرنے کے باوجود بھی اس سے نکلیں گے۔ان کا نکلنا مذ ہب اسلام کے باطل ہونے کا ثبوت نہیں ہوگا بلکہ اس کی صداقت کی نشانی ہوگا۔کیونکہ بنیادی طور پر اور اصل کے لحاظ سے اسلام ایک روحانی مذہب ہے اور نکلنے والے ایسے لوگ نہیں ہوں گے جو دینی اور روحانی لحاظ سے کسی معیار پر قائم ہوں گے۔بلکہ یہ لوگ وہ ہوں گے جوخود غرضی، دنیا پرستی یا جاہ وحشم کے متلاشی ہوں گے۔ان کی ایسی صفات کا مذہب سے متصادم ہونا ان کے اسلام سے نکلنے کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔چونکہ ان کے ذہن و روح اسلام کے مزاج کے موافق اور ہم آہنگ نہیں ہیں۔اس لئے ان کا اس دین میں ٹھکانہ محض عارضی ہوگا۔سوائے اس شخص کے جو اپنے اندر سچائی اور ایمان اور تقوی کو صیقل کرے اور تعلق باللہ میں آگے بڑھے، دوسرا انسان اسلام سے منسلک نہیں رہ سکتا۔نام کا مسلمان ہونا ایک الگ چیز ہے مگر دل اور روح کے ساتھ اس پر عملاً کار بند ہونا بالکل اور چیز ہے۔