خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 353 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 353

(۳۴۹ تھے۔ارتداد کے ایسے نمونے صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ مذاہب عالم میں بھی ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔چنانچہ مذہب سے کبھی کوئی انفرادی طور پر ارتداد اختیار کرتا ہے تو کبھی مرتدین گروہوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔غرض مذاہب عالم میں ایمان و کفر اور اقرار و ارتداد ایک مشترک چیز ہے۔اس کی وجہ سے کسی مذہب کی معین تعداد کا شمار ممکن نہیں ہوسکتا۔گزشتہ مذاہب یا انبیائے سابقہ کے حالات کا مطالعہ کریں تو ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کبھی بچھڑے کو معبود بناتے نظر آتے تھے اور کبھی بلا جھجک آپ کے فرمودات کا انکار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ایسے ہی نمونے حضرت عیسی کے حواریوں سے بھی ظاہر ہوئے تھے۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں بھی ان کی اپنی قوم ان سے بغاوت کرتی پائی جاتی ہے۔اسی طرح بعض انبیاء کے گھر والے بھی ان کے مخالف پائے جاتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت ام کے دور میں مرتدین میں سے وہ بھی ہیں جو آپ کی زندگی میں اپنے اچھے حالات میں بھی مرتد ہوئے اور وہ بھی ہیں جو کسی سرزنش یا اس کے خوف کی وجہ سے ارتداد اختیار کر گئے۔خصوصاً آپ کے وصال کے بعد ارتداد کا سلسلہ ایسا وسیع ہوا کہ عرب کا طول و عرض اس کی لپیٹ میں آگیا۔آپ کی زندگی میں عبد العزی بن خطل ، ہبار بن اسود اور عبداللہ بن ابی سرح جیسے لوگ مرتد ہوئے۔اور رعل ، ذکوان ، عصیہ، عکل اور عرینہ وغیرہ قبائل کے لوگ بظاہر اسلام قبول کرنے کے بہانے دھوکہ دے گئے۔اسی طرح آپ کے وصال کے بعد قریش اور ثقیف قبائل کے سوا تقریباً ہر قبیلہ میں ہی جزوی یا کلی طور پر ارتداد واقع ہوا۔یمن، بحرین ، عمان ، شام کے سرحدی علاقے اور عرب کے اندرونی قبائل میں عمومی ارتداد ہوا۔وہاں کوئی نقاد عرب میں مسلمانوں کی تعداد کے غیر حقیقی ہونے کی بات نہیں کرتا۔در حقیقت ہمیشہ الہی سلسلوں میں سے ہمیشہ وہی لوگ باہر نکلتے ہیں جو روحانی اور دینی اعتبار سے کمزور اور بیمار ہوں۔ایسے بیماروں کے نکل جانے سے الہی جماعت تندرست اور سرسبز رہتی ہے اور اس کا دین خالص رہتا ہے اور وہ ترقیات کی منازل طے کرتی رہتی ہے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ