خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 343
۱۳۳۹ لیں تو پانچ لاکھ سرمایہ ہو جائے گا۔اور یہ اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا پریس اور کافی کتب شائع کی جاسکتی ہیں۔سر دست میں اس غرض کے لئے چار لاکھ سرمایہ کی ہی اجازت دیتا ہوں۔اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اس رقم کو بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔جب اس کمپنی کی وجہ سے آمد شروع ہوگئی تو چونکہ خلافت جو بلی فنڈ کے روپیہ پر اس کی بنیا درکھی گئی ہے۔۔۔اس لئے اس کی آمد کے پیدا ہونے پر اس کا ایک حصہ وظائف میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔اب رہ گئی تحریک جدید کی چار لاکھ روپیہ کی کمپنی۔۔۔۔اس کمپنی کے سرمایہ کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ قرآنِ کریم کے غیر زبانوں میں تراجم کا کام چونکہ اس کا ایک حصہ ہے اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ تراجم قرآن کا دو لاکھ روپیہ اس کمپنی کو دے دیا جائے۔وہ تراجم بھی یہی کمپنی شائع کرے اور اس کے علاوہ دوسرا لٹریچر بھی یہی کمپنی شائع کرے۔باقی دولاکھ روپیہ رہ گیا۔اس کے لئے میرے ذہن میں ایک اور صورت ہے۔۔۔۔۔وہ ایسی نہیں کہ فوری طور پر روپیل جائے لیکن بہر حال اگر کوشش کی جائے تو مجھے امید ہے دو لاکھ روپیہ ہمیں مل جائے گا۔اس کے لئے ایک زمین کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔جو مجھے کسی دوست نے تحفہ کے طور پر پیش کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تحفہ بھی اس طرف منتقل کر دوں۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۰۴ تا ۱۰۸۔بحوالہ سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ ۲۳۹،۲۳۸) جماعت کے ایک ایک پیسے کی حفاظت اور اسے بہترین سے بہترین مصرف میں لگانا اور اسے سودمند بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنا، اپنا ذاتی روپیہ بھی جماعت کی ملکیت سمجھنا اور پھر لاکھوں روپیہ اور لاکھوں روپوں کی مالیت کی جائیداد اللہ تعالیٰ کے رستہ میں پیش کر دینا، جس قدر ممکن ہو جماعت کے کاموں کو آگے سے آگے بڑھاتے چلے جانے کی تڑپ رکھنا اور اس کے لئے عملی