خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 316
۳۱۲ والوں نے بالکل درست کیا تھا اور جنہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل میں اپنے قبضہ کے قیدیوں کو ہلاک کیا تھا ان کی غلطی کا اندازہ آنحضرت م کی اس تکلیف سے اور آپ کی خدا تعالیٰ کے حضور التجا سے اور حضرت علی کو بنو جذیمہ کے پاس بھجوا کر مقتولین کی دیت کی ادائیگی سے کیا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ طاعت در معروف کے مسئلہ پر کھلی کھلی روشنی ڈالتا ہے۔حضرت خالد اسلام میں نووارد تھے۔آپ کا مذکورہ بالا حکم گولا علمی پر مبنی تھا مگر اس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت لازم آتی تھی۔اس سے جو صحابہ آگاہ تھے، انہیں علم تھا کہ یہ فیصلہ معروف نہیں ہے بلکہ معصیۃ اللہ اور معصیۃ الرسول ہے اس لئے ان کا انکار آنحضرت ام کے نزدیک درست قرار پایا اور وہ جنہوں نے اس کی تعمیل کی ان کی اطاعت آنحضرت ام کے لئے تکلیف کا موجب بنی۔اس مسئلہ کو خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر کے ایک فرمان سے بھی وضاحت ملتی ہے۔آپ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے سب سے بڑے عارف تھے اور آپ کے بعد احکام قرآن کے سب سے بڑے عالم تھے۔آپ منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی میں اپنے سب سے پہلے خطاب میں اس اصل کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور فرمایا: اے لوگو ! تمہاری باگ ڈور مجھے سونپی گئی ہے لیکن میں تم جیسا ہی ایک شخص ہوں۔اگر میں نیک کام کروں تو تم میری مددکردو اور اگر کوئی بُرا کام کروں تو مجھے درست کرو۔سچائی ایک امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔۔۔۔۔۔میں اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کی اطاعت کرتا ہوں تو تم میری اطاعت کرو۔ہاں اگر میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کا نافرمان ہوتا ہوں تو پھر تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔“ ( ابن ہشام امرسقیفہ بنی ساعدہ ، خطبۃ ابی بکر بعد البيعة۔۔۔) حضرت ابوبکر کے اس خطاب سے بالکل عیاں ہے کہ اپنے مطاع اور امام کے ہر حکم اور