خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 276
۲۷۲ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نه مال غنیمت کشور کشائی ہم نہ تو توڑ پھوڑ کے قائل ہیں اور نہ ہی دنگا فساد کو صحیح سمجھتے ہیں۔کسی کی املاک کو نقصان پہنچانا بھی ہمارا کام نہ ہوگا۔ہم کسی پر گولی نہ چلائیں گے بلکہ اپنے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کروانے کے لئے کھول دیں گے کہ یا ہم نہیں یا کافر کا یہ نظام نہیں۔لیکن یہ مرحلہ اس وقت آئے گا جب ہمارے پاس طاقت ہوگی۔“ پاکستان میں نظام خلافت ، امکانات ، خدو خال اور اس کے قیام کا طریق صفحہ ۳۲ از ڈاکٹر اسرار احمد : ناشر: ناظم مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور ، ۱۹۹۲ء) وو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں : ” ہر شخص اپنی ذات میں اللہ کا خلیفہ بنے۔“ اس لحاظ سے تو یہ بات درست ہے کہ جب خدا تعالیٰ دنیا میں نبی بھیجتا ہے تو اس کے ہاتھ پر ایمان لانے والا ہر شخص اپنی ذات میں اس خلافت کو جذب کر لیتا ہے جو نبی کے ذریعہ خدا تعالیٰ آسمان سے اتارتا ہے۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے برگزیدہ نبی کی تو تکذیب کرے مگر اس کی ذات میں خدا تعالیٰ کی خلافت قائم ہو جائے۔خلافت کے قیام کی پہلی شرط ہی خدا تعالیٰ نے ایمان رکھی ہے۔مامورِ زمانہ کی موت پر اگر ایمان نہیں تو خلافت کے قیام کی تمنا ایک خیالِ خام ہے۔66 وہ کہتے ہیں : ” پھر انہیں ایک نظم میں پرو دیا جائے۔“ ان کے اس فقرے میں ہی خلیفہ کے اوپر ایک بالا اتھارٹی کا تصور موجود ہے جو بطور نگران، منتظم یا حاکم ان لوگوں کو جو اپنی ذات میں اللہ کا خلیفہ بن چکے ہوں گے ایک نظم میں پرونے کا عمل کرے گا۔پس اگر وہ ذات یا وہ شخص جو پہلے سے ہی بطور نگران یا منتظم موجود ہے جو أن منتشر افراد کو منظم کرے گا تو پھر سوال خلافت کا نہیں بلکہ محض نظم وضبط کا رہتا ہے۔اصل کام تو پھر لوگوں کو منظم کرنے کا ہے۔یہ کام پولیس بھی کر سکتی ہے یا اگر لوگ زیادہ ہی بے لگام ہوں تو