خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 194
۱۹۱ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی سر پرستی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی قیادت دونوں نے اس انجمن کے ممبروں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑادی اور دینِ حق ( ناقل ) اور احمدیت کی تبلیغ کا کام جو بہت پیچھے جا رہا تھا پھر سے تیز ہو گیا۔چنانچہ جولائی ۱۹۱۳ ء تک اس کے ممبروں کے ذریعہ دو تین سو آدمی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ اسی طرح بعد میں بھی جاری رہا۔انجمن نے اپنے خرچ پر چوہدری فتح محمد سیال کو خواجہ کمال الدین صاحب کی مدد کے لئے انگلستان بھجوایا۔علاوہ ازیں شیخ عبدالرحمن بن مسلم اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ انصاراللہ کی طرف سے تعلیم وتبلیغ کی خاطر مصر بھیجے گئے۔خلافت ثانیہ کے دور میں حضرت مصلح موعودؓ نے نومبر ۱۹۲۶ء میں اسی نام سے ایک انجمن بنائی اور اس کا بنیادی مقصد یہ قرار دیا گیا کہ اس انجمن کے ممبرنئی نسل کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ وہ خدمت دین کا فریضہ سرانجام دے سکیں اور آنے والی عظیم ذمہ داریوں کو اٹھا سکیں اور آپ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۲۶ء کے خطبہ جمعہ میں اعلان فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتوں میں بھی اس قسم کی شاخیں قائم ہوں اور وہ اس رنگ میں نئی پود کی تعلیم وتربیت کا کام کریں کہ وہ جماعت کے مثالی مبر ثابت ہوں۔۲۶ جولائی ۱۹۴۰ء کے خطبہ جمعہ میں سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد علیہ اسی الثانی نے ۴۰ سال سے زائد عمر والے احمدی مردوں کی تنظیم مجلس انصار اللہ کے نام سے قائم فرمائی جس کے پہلے صدر حضرت مولوی شیر علی مقرر کئے گئے۔پہلے پہل اس کی رکنیت صرف قادیان میں رہنے والے احباب کے لئے تھی جبکہ باہر کے دوستوں کی صوابدید پر منحصر تھا کہ وہ اس کے ممبر بنیں یا نہ بنیں۔لیکن بعد میں اسے ۴۰ سے زائد عمر والے ہر احمدی کے لئے اس میں شمولیت کو ضروری قرار مصل دے دیا گیا۔حضرت مسیح موعود نے ۱۹۵۶ء کے سالانہ اجتماع انصار اللہ میں ایک نیا عہد نامہ اس مجلس کے لئے تجویز کیا جو انصار اللہ کے ہراہم جلسہ میں دو ہرایا جاتا ہے۔