خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 139
(۱۳۷ ہوئی تو بیعت کرنے والوں میں اس قدر جوش و جذبہ تھا کہ انصار بھی خواہ وہ اوس سے تعلق رکھتے تھے یا خزرج سے، جلدی جلدی اور بڑھ بڑھ کر بیعت کرنے لگے۔وہ اس مسابقت میں یہ بھی بھول گئے کہ رض حضرت سعد بن عبادہ جن کو چند لمحے پہلے وہ اپنا امیر بنا رہے تھے ، اب انہیں ان میں سے بعض کے پاؤں کی ٹھو کر لگ رہی تھی۔حضرت سعد بن عبادہ بیمار اور وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔بیعت کرنے والے ان کے اوپر سے پھلانگ پھلانگ کر بیعت کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔خلافت کے بارہ میں آنحضرت یم کی دو پیشگوئیوں کا پورا ہونا ۱: حضرت ابوبکر کی خلافت کی پیشگوئی یہاں آنحضرت ام کی یہ پیشگوئی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَ ابْنِهِ وَ أَعْهَدَ أَنْ يَقُوْلَ الْقَائِلُوْنَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَتُّوْنَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَى اللَّهُ وَ يَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ( صحیح بخاری کتاب المرضی باب قول المريض انى وجمع وار أساه۔۔۔۔۔کہ میں نے ایک دفعہ ارادہ کیا تھا کہ ابو بکر اور آپ کے بیٹے کو بلاؤں اور خلافت کی وصیت لکھ دوں تا کہ باتیں بنانے والے باتیں نہ بناسکیں اور اس کی تمنا کرنے والے اس کی خواہش نہ کریں۔پھر میں نے کہا کہ ( ابو بکر کے علاوہ کسی بھی دوسرے کا ) اللہ تعالیٰ لازماً انکار کر دے گا اور مومن بھی اسے ضرور رد کر دیں گے۔۲: قریش میں امامت کی پیشگوئی گے۔آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا: "الأئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشِ “ کہ امام قریش میں سے ہوں (السيرة الحلبية باب ما يذكر فيه مدة مرضه، وماوقع فيه۔۔۔ومن الطیالسی حدیث ۹۲۶ بحوالہ خلافت رشده انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۴۸۲) آنحضرت ام کے ان الفاظ میں مہاجرین کے حق میں کوئی حکم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی